مالدیپ کے صدر کا نگران وزیراعظم کو ٹیلی فون، باہمی تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار

جمعرات 1 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ ، بالخصوص تجارت اور ماحولیاتی اقدامات کے خصوصی حوالے سے تعاون بڑھانے کے لیے نئے راستے تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔

جمعرات کو وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو جمہوریہ مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے ٹیلی فون کیا اور دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

بیان کے مطابق ٹیلی فون کا مقصد ابوظہبی میں اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج ( کوپ۔28) کے فریقین کی کانفرنس کے 28ویں اجلاس کے موقع پردونوں رہنماؤں کے درمیان  2 دسمبر 2023 کو ہونے والی ملاقات کے دوران ہونے والی بات چیت کے عمل کو آگے بڑھاناتھا۔

دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے اور تجارت اور ماحولیاتی اقدامات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے باہمی تعاون کو بڑھانے کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے وسیع تر علاقائی تعاون کے ذریعے جنوبی ایشیا میں امن اور ترقی کے لیے کام کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنوبی ٹوریڈز شہابیوں کی بارش آج عروج پر ہوگی، آسمان پر روشن شعلے دکھائی دینے کا امکان

اولمپک گولڈ میڈلسٹ کے گھر چوری، ڈاکو 1980 کا تاریخی طلائی تمغہ بھی لے اڑے

یوکرین میں امدادی مرکز پر روسی بمباری، ہلاکتیں 40 تک پہنچ گئیں

ٹرمپ کو انتخابی دھچکا، ایران، اسرائیل اور یوکرین سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی کا امکان

ٹیکساس میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر روکنے کا اعلان، اربوں ڈالر کے منصوبے غیر یقینی کا شکار

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا