رواں سال کی جنوبی ٹوریڈز (Southern Taurids) شہابیوں کی بارش 5 نومبر کو عروج پر پہنچ رہی ہے، جس کے دوران آسمان پر روشن اور چمکتے شہابیے دکھائی دینے کا امکان ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق یہ شہابیے زمین کے ماحول میں قریباً 65 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے داخل ہوتے ہیں، جس کے باعث ان کی روشنی اور چمکتی ہوئی لکیر نسبتاً زیادہ دیر تک دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیں:شہاب ثاقب کی بارش آج رات عروج پر، آسمان پر شاندار منظر دیکھنے کا موقع
ماہرین کے مطابق جنوبی ٹوریڈز کی خاص بات ان میں روشن شہابیوں اور آگ کے گولوں (فائر بالز) کی موجودگی ہے۔ یہ بعض اوقات سیارہ زہرہ سے بھی زیادہ روشن دکھائی دیتے ہیں اور آسمان پر روشنی کی طویل لکیر چھوڑ جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شہابی سلسلے کے دوران اوسطاً فی گھنٹہ قریباً 5 شہابیے دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان کا ظاہری نقطۂ آغاز برج ثور (Taurus) ہے، جبکہ مشاہدے کے لیے نصف شب کا وقت موزوں قرار دیا گیا ہے۔
Halloween Fireballs are coming to night skies all over the world! 🌠
These super-bright meteors shine about 1% of the time during the Northern Taurid meteor shower, active from October 20 to December 10. The shower peaks overnight November 11 to 12, but your odds spike in late October and early November, when the Northern and Southern Taurids cross streams and the meteor rate doubles. Head out around midnight, find a dark spot, and look up!
— Museum of Science (@museumofscience) October 13, 2026
رپورٹ کے مطابق شہابیوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے دوربین کی ضرورت نہیں، تاہم شہر کی روشنیوں سے دور کسی تاریک مقام کا انتخاب اور آنکھوں کو کم از کم 30 منٹ اندھیرے سے ہم آہنگ ہونے کا وقت دینا بہتر ہوگا۔
جنوبی ٹوریڈز کا تعلق دمدار ستارے اینکے (Comet Encke) کے چھوڑے ہوئے ملبے سے ہے۔ زمین جب اس ملبے کے راستے سے گزرتی ہے تو چٹانوں اور برف کے چھوٹے ذرات فضا میں داخل ہوکر جلنے لگتے ہیں، جس سے شہابیوں کی روشن لکیریں بنتی ہیں۔
مزید پڑھیں:آسمان پر نایاب تماشا، رواں ہفتے میٹیور شاور کا شاندار نظارہ کیا جا سکے گا
ماہرین کے مطابق اس سال شہابیوں کی تعداد معمول کے مطابق رہنے کا امکان ہے، جبکہ ٹوریڈز کے زیادہ گھنے ملبے سے گزرنے کے باعث روشن شہابیوں کی بڑی تعداد کا اگلا امکان 2032 میں متوقع ہے۔
شہابیے پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر حصوں سے دیکھے جاسکتے ہیں، تاہم موسم، بادلوں اور فضائی آلودگی کے باعث مشاہدے میں فرق آسکتا ہے۔











