ٹیکساس میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر روکنے کا اعلان، اربوں ڈالر کے منصوبے غیر یقینی کا شکار

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹیکساس کی نو منتخب گورنر جینا ہینوجوسا نے ریاست میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی منظوریوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد اربوں ڈالر کے منصوبوں کا مستقبل غیر یقینی ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیں:ملازمتوں میں سست روی کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت نہیں، نئی تحقیق نے دعوے چیلنج کر دیے

جینا ہینوجوسا نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اس وقت تک روک دی جائے گی جب تک ریاستی قانون ساز پانی، بجلی اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق مؤثر قوانین نہیں بناتے اور مقامی آبادی کو ان منصوبوں کے فیصلوں میں شامل نہیں کرتے۔

رائٹرز کے مطابق سستی زمین، توانائی کی دستیابی اور کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث ٹیکساس ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے امریکا کی اہم ریاست بن چکی ہے۔ میٹا، گوگل اور مائیکروسافٹ سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی گزشتہ 2 برس کے دوران یہاں بڑے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا میں 2030 تک منصوبہ بندی کے تحت قائم ہونے والی ڈیٹا سینٹرز کی مجموعی گنجائش کا قریباً ایک چوتھائی ٹیکساس میں متوقع ہے، جبکہ ریاست کے بجلی کے نظام سے منسلک ہونے کے لیے 400 گیگاواٹ سے زائد مجوزہ منصوبے زیر غور ہیں۔

ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی تعداد کے باعث مقامی آبادی میں بجلی کی قیمتوں، پانی کے استعمال اور ماحولیاتی اثرات پر تشویش پائی جاتی ہے۔ دوسری جانب صنعت سے وابستہ نمائندوں کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں سے کئی منصوبے تاخیر کا شکار یا دوسری ریاستوں اور ممالک منتقل ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:دودھ اور واشنگ مشین تک اے آئی سے زیادہ سخت قوانین کے تابع ہیں، صدر مائیکروسافٹ

رائٹرز کے مطابق سبکدوش ہونے والے گورنر گریگ ایبٹ بھی انتخابات سے قبل نئے ڈیٹا سینٹرز کے بجلی کے نظام سے رابطوں پر عارضی پابندی اور منصوبوں کے آڈٹ سمیت بعض اقدامات کرچکے ہیں، جس سے پہلے ہی اربوں ڈالر کے منصوبوں پر سوالات اٹھ گئے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp