ٹرمپ کو انتخابی دھچکا، ایران، اسرائیل اور یوکرین سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی کا امکان

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو شکست کے بعد ایران، اسرائیل اور یوکرین سے متعلق امریکی خارجہ پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے تجزیے کے مطابق انتخابی نتائج ٹرمپ کو خارجہ پالیسی کے محاذ پر سمجھوتے یا اپنے مؤقف پر مزید سختی اختیار کرنے، دونوں میں سے کسی ایک راستے کی طرف لے جاسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے ری پبلکن جماعت کی انتخابی شکست میں اہم کردار ادا کیا۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی جنگ کو انتخابی نقصان کی وجہ قرار دیا۔ تہران نے نتائج کو امریکی عوام کی جانب سے جنگ کے خلاف فیصلہ قرار دیا ہے، تاہم ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ امریکی انتخابات سے واشنگٹن کی پالیسی تبدیل ہونے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

سی این این کے مطابق ٹرمپ کے سامنے ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنے کا راستہ موجود ہے جسے وہ اپنی کامیابی قرار دے سکیں، تاہم فوجی کارروائی میں شدت لانے کا خطرہ بھی برقرار ہے۔ قطر کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطوں میں بھی پیشرفت ہوئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے لیے امریکی حمایت میں کمی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے بعض حلقوں میں اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید بڑھ رہی ہے، جس سے فوجی امداد، انٹیلی جنس تعاون اور مشترکہ دفاعی منصوبے متاثر ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

یوکرین بھی امریکی پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ صدر وولودیمیر زیلنسکی کی حکومت کو امید ہے کہ کانگریس میں تبدیلی سے اسے امریکی حمایت کے حصول میں آسانی ہوسکتی ہے، تاہم کیف اب واشنگٹن پر مکمل انحصار کے بجائے دیگر راستوں پر بھی غور کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp