امریکی وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو شکست کے بعد ایران، اسرائیل اور یوکرین سے متعلق امریکی خارجہ پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے تجزیے کے مطابق انتخابی نتائج ٹرمپ کو خارجہ پالیسی کے محاذ پر سمجھوتے یا اپنے مؤقف پر مزید سختی اختیار کرنے، دونوں میں سے کسی ایک راستے کی طرف لے جاسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے ری پبلکن جماعت کی انتخابی شکست میں اہم کردار ادا کیا۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی جنگ کو انتخابی نقصان کی وجہ قرار دیا۔ تہران نے نتائج کو امریکی عوام کی جانب سے جنگ کے خلاف فیصلہ قرار دیا ہے، تاہم ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ امریکی انتخابات سے واشنگٹن کی پالیسی تبدیل ہونے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
Uncertainty for Israel. Potentially more support for Ukraine. AI could be re-regulated. But Iran remains a top foreign policy priority. Mark Bendeich, Global Managing Editor for World News, shares some key global ramifications of the US midterm results https://t.co/eUdxblsZ6C pic.twitter.com/lG3DH4arVK
— Reuters (@Reuters) November 4, 2026
سی این این کے مطابق ٹرمپ کے سامنے ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنے کا راستہ موجود ہے جسے وہ اپنی کامیابی قرار دے سکیں، تاہم فوجی کارروائی میں شدت لانے کا خطرہ بھی برقرار ہے۔ قطر کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطوں میں بھی پیشرفت ہوئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے لیے امریکی حمایت میں کمی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے بعض حلقوں میں اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید بڑھ رہی ہے، جس سے فوجی امداد، انٹیلی جنس تعاون اور مشترکہ دفاعی منصوبے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا
یوکرین بھی امریکی پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ صدر وولودیمیر زیلنسکی کی حکومت کو امید ہے کہ کانگریس میں تبدیلی سے اسے امریکی حمایت کے حصول میں آسانی ہوسکتی ہے، تاہم کیف اب واشنگٹن پر مکمل انحصار کے بجائے دیگر راستوں پر بھی غور کررہا ہے۔











