ہائبرڈ فوڈ: سائنسدانوں نے گوشت والے چاول اگا لیے

پیر 18 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنسدانوں نے ایک نئی قسم کا ہائبرڈ فوڈ تیار کیا ہے جس کے تحت’گوشت دار‘ چاول اگائے ہیں جو ان کے مطابق پروٹین کا ایک سستا اور ماحول دوست ذریعہ ثابت ہوں گے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ چاول لیبارٹری میں بیف کے پٹھوں اور چربی کے خلیوں کے ساتھ ملاکر اگائے گئے ہیں۔ چاولوں پر پہلے مچھلی کی جیلاٹین لیپ لگایا گیا تاکہ گائے کے گوشت کے خلیات اس سے چپک سکیں اور پھر بیجوں کو ڈش میں 11 دن تک کلچر کے لیے چھوڑ دیا گیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ کھانا قحط، فوجی راشن اور مسقتبل میں خلائی خوراک کے لیے بھی کام آسکے گا۔

یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ اسے مارکیٹ کیے جانے کی صورت میں کیا عام صارفین بھی یہ لینا پسند کریں گے۔

ہائبرڈ چاول عام چاولوں کے مقابلے میں قدرے سخت ہوگا لیکن اس میں پروٹین خاصی مقدار میں ہوگی۔

جنوبی کوریا کی یونسی یونیورسٹی کی ٹیم کے مطابق اس میں 8 فیصد زیادہ پروٹین اور 7 فیصد زیادہ چکنائی ہوتی ہے۔

محقق سوہیون پارک کا کہنا ہے کہ ہم عام طور پر مویشیوں سے پروٹین حاصل کرتے ہیں لیکن مویشیوں کی پیداوار میں بہت سارے وسائل اور پانی خرچ ہوتا ہے اور بہت ساری گرین ہاؤس گیس خارج ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاول میں پہلے سے ہی اعلیٰ غذائیت کی سطح موجود ہوتی ہے لیکن مویشیوں کے خلیات کو شامل کرنے سے اسے مزید فروغ مل سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے توقع نہیں تھی کہ چاول میں خلیات اتنے اچھے طریقے سے بڑھیں گے، اب میں اناج پر مبنی اس ہائبرڈ خوراک کے امکانات کی ایک دنیا دیکھ رہی ہوں‘۔

’لوگوں کو قائل کرنے کی ضرورت ہوگی‘

ایسا لگتا ہے کہ چاول گوشت کے خلیوں کو بڑھنے کے لیے ایک سہارا یا ڈھانچہ فراہم کرتا ہے اور انہیں غذائی اجزا بھی فراہم کرتا ہے۔

یہ ٹیم لیبارٹری میں تیار کی جانے والی یا کاشت شدہ گوشت کی مصنوعات کو دریافت کرنے والی پہلی ٹیم نہیں ہے۔

سنہ2013  میں لندن میں پہلی بار لیبارٹری سے تیار کیے جانے والے برگر کے بعد سے دنیا بھر کی درجنوں کمپنیاں سستا کاشت شدہ گوشت مارکیٹ میں لانے کی دوڑ میں شامل ہو چکی ہیں۔

سنگاپور نے حال ہی میں صارفین کو دنیا کی پہلی کاشت شدہ چکن کی مصنوعات فروخت کرنا شروع کی ہیں۔

دریں اثنا اٹلی نے ملک کی غذائی روایات کے تحفظ کے لیے لیبارٹری میں تیار کیے جانے والے گوشت پر پابندی کے بل کی حمایت کی ہے۔

تاہم اٹلی کے اس اقدام کے ناقدین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ لیبارٹری میں تیار کیے جانے والے گوشت کے بارے میں کچھ بھی مصنوعی نہیں ہے اور یہ قدرتی خلیات کی افزائش سے بنایا جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا کے ایگری فوڈ اور کلائمیٹ اسپیشلسٹ پروفیسر نیل وارڈ کا کہنا ہے کہ اس قسم کی تحقیق مستقبل میں صحت مند اورزیادہ ماحول دوست موافق غذا ہوگی لیکن کچھ لوگوں کو اس کے لیے قائل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کی لاگت اور آب و ہوا کے اثرات سے متعلق اعداد و شمار بھی بہت مثبت نظر آتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ غذا پراسس شدہ گوشت کی جگہ بھی لے سکتی ہے۔

برٹش نیوٹریشن فاؤنڈیشن سے بریجٹ بینیلم نے کہا: “ایک ایسی خوراک تیار کرنا جو انسانوں اور کرہ ارض دونوں کے لیے صحت کو سہارا دے، ایک بڑا چیلنج ہے اور یہ تحقیق غذائی قلت کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس چاول میں پروٹین میں نسبتاً کم اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لہٰذا اگر اس ٹیکنالوجی کو روایتی جانوروں کی مصنوعات کے متبادل پروٹین کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کے لیے مزید کام کی ضرورت ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کو نجی اسپتال میں داخل کرانے کا مطالبہ، حکومت کا ردعمل آگیا

ٹی20 ورلڈ کپ: محسن نقوی کا پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے سری لنکا جانے کا امکان

5 پاؤنڈز کا عطیہ جیب میں ڈالنے کا معاملہ، ابرار الحق اور صحافی سفینہ خان کے درمیان تکرار کی ویڈیو وائرل

ایران کے خلاف بڑے امریکی آپریشن کی تیاری کا انکشاف، خطرات اور جوابی ردعمل کے امکانات بڑھ گئے

’آئیے لندن کا بہترین چہرہ دکھائیں‘، میئر صادق خان نے لیسٹر اسکوائر میں رمضان لائٹس کا افتتاح کردیا

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟