ریت میں دفن ہوا پورا گاؤں، وجہ کیا بنی؟

جمعہ 22 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھوت یا جنات کی کہانیاں تو آپ نے بہت سنی ہوں گی لیکن کبھی یہ سننے کا اتفاق ہوا ہے کہ اسی مخلوق کے ڈر سے پوری آبادی اپنے مکانات چھوڑ کر راتوں رات نکل بھاگے ہوں؟ نہیں، تو ہم آپ کو ایک ایسی ہی ہیبت ناک گاؤں کے بارے میں بتاتے ہیں جو دبئی میں واقع ہے اور سیاحوں میں خاصا مقبول مقام بنتا جارہا ہے۔

آخر ایسا کیا ہوا جو راتوں رات لوگ اپنے مکانات خالی چھوڑ کر یہاں سے بھاگ گئے؟ کوئی کہتا ہے کہ جنات لوگوں کو پریشان کرتے تھے تو کوئی بھوت کی کہانیاں سناتا ہے، دبئی کے ریگستان میں بسے اس گاؤں میں ایسا کیا ہوا جو لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ گئے اور کبھی واپس لوٹے ہی نہیں۔

چھوٹے سے شہر المدام سے تقریبا 2 کلو میٹر جنوب مغرب میں ایک چھوٹی سی مگر ڈراؤنی بستی ہے، کبھی یہاں پر موجود تین اہم قبائل میں سے ایک قطبی قبیلہ کے لوگ آباد تھے لیکن تقریبا دو دہائی قبل ایک دن اچانک یہاں کے لوگوں نے اپنا  گاؤں چھوڑ دیا۔

مقامی افراد نے اس واقعہ کی کوئی وجہ نہیں بتائی لیکن مقامی کہانیوں کے مطابق یہ برے جنات ہی تھے، جنہوں نے لوگوں کو بھگایا تھا، بعض سمجھتے ہیں کہ یہاں ریت کے نیچے کچھ عجیب ہے، جو گھروں میں گھس جاتا ہے، بعض سمجھتے ہیں کہ المدام میں کچھ مافوق الفطرت واقعات رونما ہوئے تھے، تاہم ان واقعات کی نوعیت معلوم نہیں ہو سکی۔

اس گاؤں میں ایک جیسے گھروں کی دو قطاریں ہیں اور ایک سرے پر ایک مسجد ہے، رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ یہ گھر 1970 کی دہائی کے آخر یا 1980 کی دہائی کے اوائل میں ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ کے حصے کے طور پر بنائے گئے تھے اور بہت اچھی حالت میں تھے۔

یہ گھر تقریباً 2 دہائیوں سے بالکل ویران پڑے ہیں لیکن ان کی دیواریں بالکل ٹھیک ہیں اور پینٹ بھی کافی حد تک پہلے کی طرح برقرار ہے، تاہم صحرا میں موجود ان گھروں کو ریت نے ضرور بھر دیا ہے، ممکن ہے کہ افسانوں میں لوگ اسے بھوت کا سایہ کہیں یا کسی جن کا قہر، لیکن حقیقت میں یہاں کے لوگ صحرا کی ریت کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑ گئے ہوں گے۔

خلیجی اخبار گلف نیوز سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شخص نے بتایا کہ یہاں کی ریت گھروں میں داخل ہو جاتی ہے، یہ ریت کی فطرت ہے یا اس میں کچھ اور بھی ہے، اس کا علم نہیں۔ ’بہت سے لوگ یہ دعویٰ بھی کرچکے ہیں کہ ریت کے اندر کوئی چیز ہے، جو گھروں میں گھس جاتی ہے، لیکن ٹھوس حوالوں سے اس ضمن میں کوئی معلومات نہیں۔‘

المدام دبئی شہر سے تقریباً 60 کلومیٹر اور شارجہ سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، چونکہ المدام کے قریب یہ گاؤں اب بالکل خالی ہو چکا ہے، اس لیے اس لاوارث گاؤں میں اب صرف سیاح یا پھر یوں کہا جائے کہ انسٹاگرامرز آتے ہیں، جو اس جگہ کی تصویروں اور ویڈیو میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ابھیشیک شرما کا ان چاہا عالمی ریکارڈ: ’گولڈن ڈک‘ کے ’معرکے‘ میں شاداب و راشد خان کو پیچھے چھوڑ دیا

عطااللہ تارڑ کا خیبرپختونخوا حکومت سے 13 سال کا حساب لینے کا اعلان، ریڈیو پاکستان پشاور کی نوتعمیر شدہ عمارت کا افتتاح کردیا

اسلام آباد: امن و امان کے لیے استعمال ہونے والے کنٹینرز کے مالکان کو کرائے کی ادائیگی کا اعلان

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس شروع: جنگوں نے دنیا کو تباہ کن اثرات سے دوچار کیا، انتونیو گوتریس

پنجاب ایپکس کمیٹی اجلاس میں اہم بریفنگ: کچے کے علاقے میں  30 ارب روپے سے زائد کا ترقیاتی پیکیج، کرپشن پر 718 پولیس اہلکار برطرف

ویڈیو

’بڑا ہوکر اپنے والد کی طرح پولیس افسر بنوں گا‘، شہید ایس پی اکبر شنواری کے بیٹے ایمل کا عزم

تحریک انصاف کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے، عمران خان مذاکرات کے ذریعے ہی باہر آسکتے ہیں، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان

27 ستمبر احتجاج: پی ٹی آئی کے مکمل خاتمے کا پلان؟ محسن نقوی نے وارننگ دیدی

کالم / تجزیہ

سید مودودیؒ آج بھی کیوں پڑھے جا رہے ہیں؟

اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے

سومنات: جب تاریخ سیاسی نعرہ بن جائے