ٹوئٹر میں اب آپ خود کو ‘ان مینشن’ کرسکتے ہیں

ہفتہ 7 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹوئٹر میں مستقبل قریب میں آپ کے لیے ایڈٹ بٹن دستیاب ہو یا نہ ہو مگر کم از کم ایک بہترین فیچر ضرور اب آپ استعمال کرسکتے ہیں۔

مقبول سوشل نیٹ ورک نے ‘ان مینشن’ فیچر کو صارفین کے لیے پیش کرنا شروع کردیا ہے جس سے آپ ٹوئٹر ہینڈل نیم کسی گفتگو سے ہٹا سکتے ہیں۔

یہ تجرباتی فیچر فی الحال ویب ورژن تک محدود ہوگا۔

اس کو استعمال کرنے کے لیے آپ کو مینشن کی گئی ٹوئٹ کے آپشنز میں ‘leave this conversation’ کا انتخاب کریں۔

ایسا کرنے سے اس چیٹ کے نوٹیفکیشنز کی روک تھام بھی ہوگی جس کا حصہ آپ بننے کے خواہشمند نہیں ہوتے۔

اس فیچر میں مینشن ٹیکسٹ تو باقی رہتا ہے مگر صارف کو کوئی الرٹ نہیں ملتا۔

کمپنی کی جانب سے سروس کو بہتر بنانے کے لیے متعدد فیچرز پر کام کیا جارہا ہے جس میں ایک ہراساں ہونے سے بچانے میں مددگار سیفٹی موڈ بھی ہے۔

یہ فیچر خودکار طور پر کچھ صارف کو بلاک کرسکتا ہے جو اس کے خیال میں دیگر کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

مگر ان مینشن فیچر بھی کافی کارآمد ہے کیونکہ اکثر افراد کو ان کے دوست اور دیگر کسی بھی چیٹ میں مینشن کردیتے ہیں حالانکہ وہ اس کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لکی مروت میں پولیس کی بڑی کارروائی، خودکش بمبار سمیت فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک، ایک زخمی فرار

امریکی وسط مدتی انتخابات، ٹرمپ کا انتہا پسند بائیں بازو کو روکنے کا عزم

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

ملک و قوم کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اداروں کے خلاف بات کرنا ماں کو گالی دینے کے مترادف ہے، جہاں آرا وٹو

گرین لینڈ کی پارلیمنٹ نے امریکا اور ڈنمارک کے ساتھ آرکٹک سیکیورٹی معاہدے کی منظوری دیدی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا