یہ ‘فلائنگ کار’ بہت جلد آپ کو دستیاب ہوگی

اتوار 8 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ویسے تو اڑنے والی گاڑیوں کو بنانے کے لیے متعدد کمپنیوں کی جانب سے کام کیا جارہا ہے مگر اب تک کچھ خاص پیشرفت نہیں ہوسکی۔

مگر ایک کمپنی Aska کی گاڑی اے 5 جلد اڑان بھرنے کے لیے تیار ہے۔

درحقیقت آپ اسے اپنے لیے پری آرڈر کے ذریعے بک بھی کروا سکتے ہیں۔

یہ دنیا کی پہلی فلائنگ کار ہے جس میں 4 نشستیں موجود ہوں گی اور کمپنی کے مطابق یہ بہت جلد صارفین کو دستیاب ہوگی۔

کنزیومر الیکٹرونکس شو کے موقع پر کمپنی کے سی ای او گائے کپلینسکی نے بتایا کہ امریکی ایوی ایشن حکام کی جانب سے گاڑی کی آزمائشی پرواز کی اجازت ایک ماہ کے اندر دی جاسکتی ہے جبکہ 2026 تک اسے رائیڈ شیئرنگ سروس کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

اس گاڑی میں الیکٹرک بیٹریوں کے ساتھ ایک چھوٹا گیس انجن دیا گیا ہے اور اس کے اوپر کسی ہیلی کاپٹر کی طرح ونگز موجود ہیں۔

اس گاڑی کو کسی ہیلی کاپٹر کی طرح اڑایا یا لینڈ کیا جاسکتا ہے جبکہ بیٹریوں کو گھروں میں چارج کرنا ممکن ہوگا۔

یہ گاڑی سنگل چارج پر 150 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ڈھائی سو میل تک پرواز کرسکے گی۔

کمپنی کے مطابق یہ فلائنگ کار طویل سفر کے لیے زیادہ موزوں ہوگی جبکہ بڑے شہروں میں ٹریفک جام سے بھی بچا سکے گی۔

آغاز میں اس گاڑی کو چلانے کے لیے پائلٹ لائسنس درکار ہوگا مگر کمپنی کے خیال میں 2030 تک یہ مکمل طور پر خودکار طور پر پرواز کرسکے گی۔

اس کی قیمت بھی چونکا دینے والی ہے کیونکہ اسے خریدنے کے لیے 7 لاکھ 89 ہزار ڈالرز خرچ کرنا ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لکی مروت میں پولیس کی بڑی کارروائی، خودکش بمبار سمیت فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک، ایک زخمی فرار

امریکی وسط مدتی انتخابات، ٹرمپ کا انتہا پسند بائیں بازو کو روکنے کا عزم

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

ملک و قوم کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اداروں کے خلاف بات کرنا ماں کو گالی دینے کے مترادف ہے، جہاں آرا وٹو

گرین لینڈ کی پارلیمنٹ نے امریکا اور ڈنمارک کے ساتھ آرکٹک سیکیورٹی معاہدے کی منظوری دیدی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا