سوشل میڈیا پر عدلیہ اور بار کے خلاف منفی مواد شیئر کرنے پر مشال ایڈووکیٹ ڈسپلنری کمیٹی میں طلب

جمعرات 18 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا بار کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی نے سوشل میڈیا پر عدلیہ اور پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے خلاف منفی مواد شیئر کرنے کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے رہنماء مشال اعظم ایڈووکیٹ کو 20 اپریل کو طلب کرلیا ہے۔

خیبر پختونخوا بار کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق مشال اعظم ایڈووکیٹ وضاحت کے لیے 20 اپریل کو کمیٹی کے سامنے پیش ہوں۔

نوٹس میں ڈسپلنری کمیٹی نے بتایا ہے کہ مشال اعظم اور 2 دیگر وکلاء نے سوشل میڈیا پر عدلیہ اور پشاور ہائیکورٹ بار کے خلاف منفی مواد شیئر کیا تھا۔

ایک وکیل بار کونسل  کے سامنے پیش ہوا اور تحریری معافی نامہ بھی جمع کیا تاہم  مشال اعظم ایڈووکیٹ اور ان کا دوسرا ساتھی وکیل پیش نہیں ہوئے۔

بار کونسل نے یکم جنوری 2024 کو مشال اعظم کی وکالت کا لائنسنس منسوخ کیا تھا اور معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کو ارسال کر دیا تھا۔

ڈسپلنری کمیٹی نے کارروائی شروع کردی ہے اور مشال اعظم کو نوٹس جاری کرکے 20 اپریل کو طلب کرلیا ہےے۔مشال اعظم کی وکالت کا لائسنس تاحال معطل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

سندھ طاس معاہدہ: بیشتر بھارتی ماہرین بھی پاکستان کے موقف کے حامی ہیں

سپریم کورٹ: سزا بڑھانے کی اپیل خارج، 14 سال بعد رہائی پا چکے قیدی کے بارے اہم حکم

’سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل نہیں کیا جا سکتا‘، پاکستان کے مؤقف کو عالمی پذیرائی

افغانستان میں دہشتگردوں کی کھلی پذیرائی پر اقوام متحدہ کی خاموشی پر سوالات

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز

عالمی ریکارڈ کا حامل پاکستانی ڈاک ٹکٹ