کیا پی آئی اے کے یونین انتخابات نجکاری پر اثر انداز ہوسکتے ہیں؟

اتوار 29 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کھٹائی میں پڑتی جارہی ہے، قبل ازیں کم بولی لگنے پر قومی ایئرلائن کی فروخت نہ ہوسکی، جس کے بعد ابھی تک کسی بھی گروپ کی جانب سے کوئی پیشکش سامنے نہیں آئی، لیکن پی آئی اے کے سابق و موجودہ ملازمین اس حوالے سے مشاورت کررہے ہیں کہ قومی ایئرلائن کو خریدا جائے، دوسری طرف پی آئی اے کے یونین انتخابات اہمیت اختیار کر چکے ہیں کیوں کہ یہ انتخابات نیلامی پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:یورپ کے لیے پروازیں، پی آئی اے کا کڑا امتحان

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر پی آئی اے کے سابق عہدیدار نے بتایا کہ قومی ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری نہ ہونے کے پیچھے بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے کے اچھی قیمت کا نہ ملنا، یا اچھی قیمت والوں کو نیلامی میں شامل ہی نہیں ہونے دیا گیا، جیسے کے 5 ایسے گروپ تھے جن کی قمیت بھی اچھی تھی اور وہ سنجیدہ بھی تھے، مگر شاید شرائط ایسی رکھی ہوں گی کہ وہ بھاگ گئے، ایک وجہ یہ ہے کہ حکومت کو پریشر کا سامنا ہے، اونے پونے پی آئی اے کو نہیں بیچا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں پی آئی اے کی نجکاری: بلیو ورلڈ سٹی کی 10ارب روپے کی بولی مسترد

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا ریفرنڈم ہو رہا ہے، پی آئی اے میں میں بہت ساری یونینز ہیں جیسے ایم کیو ایم کی یونین یونائیٹڈ کے نام سے کام کررہی ہے، پاکستان تحریک انصاف کی یونین کا نام انصاف لیبر فرنٹ، پاکستان پیپلز پارٹی کی یونین کا نام پیپلز یونیٹی، پاکستان مسلم لیگ ن کی یونین کا نام ایئر لیگ ہے جبکہ جماعت اسلامی کی یونین کا نام پیاسی ہے، یہ پانچ بڑی یونینز ہیں ان یونینز کے آپس میں انتخابات ہوتے ہیں اور کلیکٹیو بارگینگ ایجنٹ (سی بی اے) کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

اس ریفرنڈم کے بعد سی بی اے کا انتخاب ہوتا ہے اور یہ سی بی اے منیجمنٹ کے ساتھ بارگین کرتا ہے، تنخواہوں کے معاملات ہوں یا کوئی بھی ورکرز سے متعلق مسائل ہوں ان کو حکام بالا تک پہنچاتا ہے اور حل کرواتا ہے۔

یہ الیکشن 3 دن کا ہوتا ہے، جو 29 دسمبر سے شروع ہوکر 31 دسمبر کو ختم ہوگا، 3 دن اس لیے یہ الیکشن چلتا ہے کہ کچھ ملازمین دوران پرواز ہوتے ہیں، اس لیے 3 دن میں یہ عمل مکمل ہوتا ہے تاکہ ہر کسی کو حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے کو برطانیہ کے لیے پروازیں آپریٹ کرنے کی اجازت جلد مل جائےگی، خواجہ آصف

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس الیکشن کی بہت اہمیت ہے جیسا کہ پی آئی اے کی نیلامی کا معاملہ ہے تو اگر کسی ایسی جماعت کا سی بی اے آگیا جو نیلامی کے خلاف ہے تو سی بی اے کی کال پر احتجاج ہوسکتا ہے، اور ایسی صورت میں پی آئی اے کے تمام امور ٹھپ ہوسکتے ہیں، تمام ایئرپورٹس بند ہو سکتے ہیں لیکن اگر یہی حکومت کے ساتھ مل جائیں تو پھر وہی ہوگا جو حکومت چاہے گی۔

اس سے پہلے سی بی اے کا تعلق پیپلز پارٹی کی یونین پیپلز یونیٹی سے تھا اور پیپلز پارٹی سرکار میں اتحادی تھی اس لیے نجکاری کے خلاف زیادہ کچھ کر نہیں سکے، اس بار بھی ہو سکتا ہے کہ پیپلز یونیٹی دوبارہ آجائے۔

یہ بھی پڑھیں سپریم کورٹ: آئینی بینچ نے پی آئی اے کی نجکاری روکنے کا حکم واپس لے لیا

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی یونین کا اکیلے آنا مشکل ہے اور وہ کسی کے ساتھ اتحاد بھی نہیں کررہے، پاکستان مسلم لیگ ن اور متحدہ قومی مومنٹ کی یونینز کے مابین اتحاد ہوچکا ہے لیکن ایم کیو ایم صرف کراچی کی حد تک ہے اور ان کے ووٹ کم ہیں، ایم کیو ایم اس سے قبل پیپلز پارٹی کے ساتھ تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزاد کشمیر میں کشیدگی کا حل مذاکرات ہیں، فریقین پیچھے ہٹیں، خواجہ سعد رفیق

پنجاب اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کے بیان کے خلاف قرارداد جمع، قانونی کارروائی کا مطالبہ

افغانستان میں 5 سال سے کم عمر 37 لاکھ بچوں کو شدید غذائی قلت کا خطرہ، یونیسیف کا الرٹ

’شمیم بی بی میری بیگم دا ناں اے‘ شہری کے جواب پر وفاقی آئینی عدالت میں مسکراہٹیں بکھر گئیں

ڈیزل ڈلوانے والے شخص نے پیسے دینے کے بجائے گاڑی بھگا دی، سیلز مین ایک کلومیٹر تک گاڑی کے ساتھ لٹکا رہا

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم