مذاکرات کی ضرورت پاکستان کو ہے، تحریک انصاف کو نہیں، شاہ محمود قریشی

جمعہ 3 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین  شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مذاکرات پی ٹی آئی نہیں بلکہ پاکستان کی ضرورت ہیں۔

انسداد دہشتگردی عدالت لاہور میں پیشی کے موقع پر  صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی ناکامی ملک میں جمہوریت کے دور کے لیے خطرہ ہوگی اور میری دعا ہے کہ مذاکرات کسی منطقی نتیجے تک پہنچیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مذاکرات مثبت نتیجے پر پہنچنے چاہئیں ورنہ حکومت ڈگمگا جائے گی۔ مذاکرات ہونے دیں، حکومت وقت پورا کرتی ہے یا نہیں وہ بعد کی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیے:پارٹی قیادت کو ٹکراؤ کے بجائے سیاسی مذاکرات کرنے کی تجویز دی ہے، شاہ محمود قریشی

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی سوچ ملک کے مفاد کے لیے ہے اور ان کی جماعت نے نیک نیتی سے مذاکرات کا عمل شروع کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جمہوریت کے دعویدار سنجیدگی سے مذاکرات آگے بڑھائیں۔

شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ ہمارا کوئی ناجائز مطالبہ نہیں ہے، جو سیاسی قیدی ہیں ان کو رہا کیا جائے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ ضمانت تو قتل کے ملزم کو بھی مل جاتی ہے، ہم ڈیڑھ سال سے جیل میں ہیں، ہمیں ضمانت ملی نہ کیس شروع ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا بڑا معاشی اقدام، ایس ایم ایز کے لیے 300 ارب روپے کی خصوصی فنانسنگ کا اعلان

’این سی سی آئی اے‘ کال سینٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کیوں کررہی ہے؟

ایک لاکھ کے ڈیپ فریزر پر 35 لاکھ روپے ہرجانے کا مطالبہ، کراچی میں دلچسپ مقدمہ سامنے آگیا

حلقہ این اے 77 میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام، الیکشن کمیشن نے عطا اللہ تارڑ کو طلب کر لیا

نئی آٹو پالیسی میں 800 اور 1000 سی سی گاڑیوں کے لیے کیا فیصلہ ہوا؟ عطااللہ تارڑ نے بتا دیا

ویڈیو

سُرتال اکیڈمی کے بچوں کی بھارت سمیت دنیا بھر میں دھوم

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟