مصنوعی ذہانت: زندگی کے سفر میں ہماری ہمسفر، مگر کیا اس دوستی پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟

منگل 7 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت موبائل فونز کے ذریعے ہماری زندگی میں شامل ہوچکی ہے اور اس سفر میں ایک کوپائلٹ کا کردار ادا کررہی ہے۔ ایپل، گوگل اور سام سنگ سمیت بڑی ٹیک کمپنیوں نے اب ایسی سروسز لانچ کردی ہیں جن کی مدد سے ہم اب بہتر طریقے سے فوٹوز ایڈیٹ کرسکتے ہیں اور مختلف زبانوں کے ترجمے بھی کرسکتے ہیں۔

ہماری ذاتی زندگیوں میں بھی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا کردار اہمیت اختیار کرچکا ہے، لیکن اپنی ذاتی معلومات کو اے آئی ٹیکنالوجی کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے ہمیں یقیناً ایک مکمل اعتماد کی ضرورت ہے۔ گو کہ تمام بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی ٹیکنالوجی کو محفوظ تر بنانے کے دعوے کررہی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اے آئی اور بڑی ٹیک کمپنیوں پر اس حد تک اعتماد کیا جاسکتا ہے کہ ان کے ساتھ ذاتی معلومات شیئر کی جاسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: چیٹ بوٹس سے رومانس کی خواہش انسان کو کہاں لے جارہی ہے!

مثال کے طور پر، کیا آپ اے آئی پر اس حد تک اعتماد کرسکتے ہیں کہ اسے بتاسکیں کہ آپ کس فرد سے بات کرنا یا ملنا نہیں چاہتے یا اسے اپنی زندگی کے دیگر راز بتا سکیں۔ ذرا سوچیں کہ اگر آپ ایسا کرتے ہیں اور کسی بھی موقع پر کوئی تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی اور آپ کی ذاتی نوعیت کی معلومات انٹرنیٹ پر شیئر ہوگئی تو کیا ہوگا۔

اس حوالے سے ٹیکنالوجی ریسرچ کمپنی سی سی ایس انسائٹ کے چیف اینالسٹ بین ووڈ کا کہنا ہے کہ 2025 میں اے آئی کی پرسنلائزڈ سروسز بہتر انداز میں اپڈیٹ کرکے متعارف کرائی جائیں گی جن میں مصنوعی ذہانت ای میلز، میسجز، ڈاکیومنٹس اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کی بنیاد پر کسی بھی شخص کے بات چیت کے انداز، اس کی ضروریات اور ترجیحات کو سمجھنے کے قابل ہوگی اور وہ اسی انداز سے کام کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے کیسا بچا جائے؟

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی شخص کے لیے مصنوعی ذہانت کے ساتھ ذاتی معلومات شیئر کرنا ایک بڑا فیصلہ ہوگا، جس میں سب سے زیادہ اہم یہی سوال ہوگا کہ کیا یہ آپ کے لیے محفوظ ہے اور کیا آپ اس ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرسکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی بے دخلی: پنجاب میں کریک ڈاؤن تیز، اب تک 28 لاکھ سے زائد شہری واپس روانہ

چیٹ بوٹ کا مشورہ جان لیوا بن سکتا ہے، اے آئی ہارڈویئر ہیک کرنے کا انکشاف

’اگر آج نیوٹن زندہ ہوتا تو ن لیگ میں ہوتا‘، حذیفہ رحمان کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی

بیلٹ پیپر پر میرا نام ہوتا تو زبردست کامیابی ملتی‘، ریپبلکن امیدواروں کی ناکامی پر ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر پوسٹ

بھارت: گجرات میں جعلی ڈاکٹروں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 38 افراد کی نشاندہی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا