امریکی انتخابات نومبر میں، مگر حلف برداری جنوری میں کیوں؟

بدھ 15 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں نومبر کے مہینے میں ہونے والے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کا اعلان ہوچکا ہے۔

تاہم نومنتخب صدر کی تقریب حلف برداری جنوری کی 20 تاریخ میں ہوگی جس کے بعد وہ وائٹ ہاؤس منتقل ہوکر جوبائیڈن کے بعد صدرات کا عہدہ سنبھالیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا میں اب لڑکیاں اور ٹرانس جینڈرز اکٹھے نہیں کھیل سکیں گے، بل منظور

مگر امریکا میں انتخابات اور حلف برداری کے درمیان 2 مہینے سے زیادہ کا وقفہ کیوں کیا جاتا ہے اور یہ روایت ان ممالک سے مختلف کیوں ہے جہاں انتخابات کے فوراً بعد اختیارات کی نئی حکومت کو منتقلی عمل میں آتی ہے؟

امریکا میں انتخابات اور حلف برداری دونوں کی تاریخ کا تعین آئین میں کردیا گیا ہے۔ اس کے مطابق امریکا میں صدارتی انتخابات نومبر کے پہلے منگل کے روز ہوتے ہیں اور حلف برداری کے ذریعے اختیارات کی منتقلی جنوری کی 20 تاریخ کو ہوتی ہے۔ اس کے پیچھے کئی ایک عوامل کارفرما ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:صدارتی انتخابات: امریکا کی 6 ریاستوں کا ٹائم زون مختلف، نتائج کے اعلان میں کتنی تاخیر ہو سکتی ہے؟

انتخابات کے نومبر میں ہونے کی ایک وجہ پہلے زمانے میں زرعی آبادیوں کی اس جمہوری عمل کا حصہ بننے کی حوصلہ افزائی کرنا تھی۔ یہ وہ مہینے ہوتا ہے جب امریکا کے دیہات میں فصلوں کی کٹائی ہوچکی ہوتی تھی اور کسانوں کی مصروفیات نسبتاً کم ہوتی تھیں جس کی وجہ سے وہ بڑی تعداد میں انتخابات میں حصہ لیتے تھے۔

اسی طرح منگل کے دن کی تخصیص کا مقصد یہ تھا کہ اس دن لوگوں کی مذہبی اور کاروباری مصروفیات کم ہوتی تھیں۔ امریکا میں لوگ اتوار کے دن چرچ جاتے ہیں اور بدھ کے دن پہلے زمانے میں مقامی مارکیٹیں کھلتی تھیں اور لوگ خریدوفروخت میں مصروف ہوتے تھے۔

حلف برداری کے لیے 1933 سے پہلے 4 مارچ کی تاریخ متعین تھی اور اس سے نئے بننے والے صدر کو اپنی کابینہ کا انتخاب کرنے اور حکومت کے لیے تیاری کرنے کا وقت ملتا تھا۔ اس زمانے میں ووٹوں کی گنتی، حکومت کی منتقلی کے دوران ہونے والے معاملات میں آمدورفت اور پیغامات کی ترسیل میں بھی بہت وقت لگتا تھا اس لیے کئی مہینوں پر محیط یہ وقفہ ضروری تھا۔

تاہم 1933 میں امریکی آئین میں 20ویں ترمیم کے بعد اس وقفے کو مختصر کرکے تقریب حلف برداری مارچ کے بجائے 20 جنوری کو کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جدید ذرائع کی وجہ سے آمدورفت کے لیے درکار وقت میں کمی آئی تھی تو دوسری طرف اس لمبے وقفے کو بھی کم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تھی جس میں جانے والا صدر نئی حکومت کے انتخاب کے بعد نسبتاً کم اختیارات کے ساتھ عہدے پر براجمان رہتا تھا۔

اس کے باوجود نئےصدر کے لیے عہدہ سنبھالنے کے لیے تیاری کی مہلت ضروری ہے جس کی وجہ سے امریکا میں نومبر میں ہونے والے انتخابات کے بعد حلف برداری جنوری کی 20 تاریخ کو ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

پاکستان نے مدت پوری ہونے سے قبل 47 کھرب روپے سے زائد قرض واپس کردیا، مشیر خزانہ

شاہراہوں کی بحالی کے لیے کلیئرنس آپریشن، کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید، متعدد زخمی

مولانا فضل الرحمان کا فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں سے متعلق بیان، تنازع کیوں کھڑا ہوا؟

عالمی سطح پر خواتین کرکٹ کی شاندار ترقی، ٹیلنٹ کے باوجود پاکستان کیوں پیچھے؟

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟