مولانا فضل الرحمان کا فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں سے متعلق بیان، تنازع کیوں کھڑا ہوا؟

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ایک حالیہ خطاب نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

قصور، پنجاب میں کارکنوں سے خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمان نے فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں کے حوالے سے ایسا تبصرہ کیا جسے متعدد حلقوں نے غلط قرار دیا، جبکہ ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کا بیان غیر ذمہ دارانہ، شہدا کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے : فیصل کریم کنڈی

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہاکہ فوجی اہلکار ملک کی خدمت کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں اور انہیں اس خدمت کے عوض تنخواہ بھی ملتی ہے۔ ان کے اس بیان کو بعض ناقدین نے شہدا اور مسلح افواج کی قربانیوں کو کم تر دکھانے کی کوشش قرار دیا، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔

تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج دہشتگردی کے خلاف جنگ، سرحدوں کے دفاع اور داخلی سلامتی کے لیے بے شمار قربانیاں دے چکی ہیں۔ ایسے میں صرف تنخواہ کو بنیاد بنا کر ان کی خدمات کا ذکر کرنا مناسب نہیں، کیونکہ ہزاروں اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں اور ان کے اہلِ خانہ آج بھی ان قربانیوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں اور حامیوں کا مؤقف ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا مقصد فوج یا اس کے اہلکاروں کی قربانیوں کو کم ثابت کرنا نہیں تھا بلکہ وہ ریاستی اداروں کے آئینی کردار اور ذمہ داریوں کے تناظر میں گفتگو کر رہے تھے۔

ان کے مطابق بیان کے صرف ایک حصے کو نمایاں کرکے مکمل بات کا مفہوم تبدیل کر دیا گیا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں سیاسی رہنماؤں کے فوج سے متعلق بیانات تنازع کا باعث بنے ہوں۔ ملکی سیاست میں سول ملٹری تعلقات ہمیشہ ایک حساس موضوع رہے ہیں، جہاں الفاظ کا انتخاب غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کے بیانات پر سیاسی جماعتیں، تجزیہ کار اور عوام فوری ردعمل دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر دو واضح آرا سامنے آئیں۔ ایک طبقے نے مولانا فضل الرحمان کے بیان کو فوج کی قربانیوں کے منافی قرار دیا، جبکہ دوسرے طبقے نے مؤقف اختیار کیاکہ کسی بھی بیان کو اس کے مکمل تناظر میں دیکھنا چاہیے اور جزوی کلپس کی بنیاد پر رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیں: شہدا کی قربانی کو تنخواہ سے نہیں تولا جا سکتا، احسن اقبال کا مولانا فضل الرحمان سے اختلاف

یہ معاملہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان میں قومی سلامتی، مسلح افواج اور سیاست سے متعلق بیانات انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے موضوعات پر سیاسی رہنماؤں کے الفاظ نہ صرف عوامی رائے پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ قومی سطح پر نئی بحث کو بھی جنم دیتے ہیں۔ آئندہ دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا جمعیت علمائے اسلام (ف) اس معاملے پر مزید وضاحت پیش کرتی ہے یا یہ تنازع محض سیاسی ردِعمل تک محدود رہتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن آدھی رہ گئی

ایل پی جی کی درآمد مسابقتی بنیادوں پر کھولنے کا فیصلہ کرلیا، چند افراد کا گٹھ جوڑ توڑ دیں گے، عطااللہ تارڑ

شاہ چارلس کی وراثت سے شہزادہ ہیری کو محروم کیے جانے کا خدشہ بڑھ گیا

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق آج پھر اچھی خبر ملے گی، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے خوشخبری سنا دی

بی وائی ڈی سی لائن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی پیداوار اگلے ماہ سے شروع ہوجائے گی، حبکو

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا