کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
آزاد کشمیر پولیس کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کی جانب سے کوہالہ تا راولاکوٹ شاہراہ کے مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کرکے آمدورفت معطل کی گئی تھی، جس کے باعث عام شہریوں کو شدید سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ شاہراہ کی بندش سے روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی متاثر ہورہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی فائرنگ، سیکیورٹی اہلکار شہید، ایک زخمی
عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آج کوہالہ تا راولاکوٹ شاہراہ پر ٹریفک کی روانی بحال کرنے اور اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔
پریس ریلیز pic.twitter.com/7huUShbqlF
— AJKPolice (@AJKPoliceCPO) July 14, 2026
پریس ریلیز کے مطابق کلیئرنس آپریشن کے دوران بیٹھک بلوچ کے مقام پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد نے سیکیورٹی اہلکاروں پر بلااشتعال فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں آزاد کشمیر پولیس کا کانسٹیبل عاقب شہید ہوگیا۔
فائرنگ کے واقعے میں آزاد کشمیر پولیس کے 100 اہلکاروں سمیت وفاقی کانسٹیبلری کے ایک اہلکار اور محکمہ تعمیرات عامہ کے 2 ملازمین بھی زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم رہنما راجہ امجد علی کا لاتعلقی کا اعلان، نوجوانوں کو دور رہنے کی اپیل
ترجمان انسپکٹر جنرل پولیس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر مکمل کنٹرول رکھتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور شاہراہوں کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ شاہراہوں کے ذریعے روزمرہ استعمال کی اشیا کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جا رہی ہے جبکہ تمام بند راستوں پر کلیئرنس آپریشن بلا تعطل جاری رکھا جائے گا تاکہ خطے میں امن، قانون کی عملداری اور شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جاسکے۔
ترجمان کے مطابق کسی بھی انتشار پسند یا مسلح گروہ کو شاہراہیں بند کرکے عوام کی زندگی، کاروبار، تعلیم اور صحت کی سہولیات کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔













