سوات یونیورسٹی کے طالبعلم کا مٹی، ہوا کے بنا پودے اگانے کا کامیاب تجربہ

منگل 21 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یونیورسٹی آف سوات کے طالبعلم نے مٹی اور ہوا کے بنا پودے اگانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اس طریقہ کار میں پلاسٹک کے پائپوں میں پودوں کی جڑیں رکھ کر انہیں وقتاً فوقتاً پانی اور نیوٹرینٹس فراہم کیے جاتے ہیں۔

ایروپونکس ٹیکنالوجی کہلائے جانا والے اس طریقہ کار کے ذریعے پودے بغیر مٹی کے کسی بھی جگہ بشمول گھر کی چھت، بالکنی یا صحن میں اگائے جا سکتے ہیں۔

سوات ایگریکلچر ریسرچ انسٹیوٹ مینگورہ کے ویجیٹیبل سیکشن میں ریسرچ افسر اور یونیورسٹی آف سوات میں پی ایچ ڈی کے طالبعلم زکریا باچا نے بتایا کہ اس طریقے سے روایتی کاشتکاری کے مقابلے میں زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے کیونکہ پودوں کے لیے تمام غذائی اجزا دستیاب ہوتے ہیں جس سے کم وقت میں زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسمارٹ فارمنگ: مٹی اور کھاد کے بغیر فصلیں اگانا ممکن

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اس طریقے سے نہ صرف زمین کی بچت ہوگی بلکہ صاف پانی کے استعمال سے مختلف بیماریوں کا خطرہ بھی کم ہو جائے گا۔

زکریا باچا نے امید ظاہر کی کہ یہ طریقہ بہت جلد عام شہریوں اور زمینداروں میں مقبول ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزاد کشمیر حکومت سازی: اہم عہدوں پر تینوں ڈویژنز کی نمائندگی نواز شریف کا درست فیصلہ

پشاور : کنزیومر کورٹ کا برانڈ لوگو والے بیگ کے 30 روپے وصول کرنے پر معروف برانڈ کو 50 ہزار روپے جرمانہ

پاکستان کا بھارت جانے سے انکار، ہاکی چیمپیئنز ٹرافی غیر جانبدار مقام پر منتقل کرنے کا مطالبہ

2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف، کوانٹم ویلی ہائی ٹیک کاروبار کے لیے نئی راہیں کھولے گی، احسن اقبال

پاکستان کے توانائی شعبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری، علی پرویز ملک سے عالمی کمپنیوں کے وفود کی ملاقاتیں

ویڈیو

لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کریں، حکومت جلد کفایت شعاری مہم کا اعلان کرنے جارہی ہے، زیب جعفر

سیاسی جماعتوں کے لانگ مارچ: اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت، ڈی چوک پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے

کچرا سڑک پر پھینکا تو چالان ہوگا، پنجاب میں آگاہی مہم شروع

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘