دہشت گردی میں ملوث افغان شہری کی لاش افغان حکام کے حوالے

منگل 21 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی سرحدی حدود کے اندر دہشت گردی میں ملوث افغان شہری کی لاش افغان حکام کے حوالے کردی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 11 جنوری 2025 کو بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ میں دہشت گردی میں ملوث افغان شہری مارا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پشین اور ژوب میں آپریشن، 2 خوارجی ہلاک 5 گرفتار: آئی ایس پی آر

دہشت گرد کی شناخت محمد خان احمد خیل ولد حاجی قاسم داوران خان کے طور پر ہوئی ہے جو کہ گاؤں بلورائی، ضلع وازخوہ، صوبہ پکتیکا، افغانستان، کا رہائشی تھا۔

افغان شہری کی لاش کو ضروری طریقہ کار کے بعد 20 جنوری کو عبوری افغان حکومت کے حوالے کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کا مستونگ میں خفیہ آپریشن، 3 دہشتگرد ہلاک، 3 زخمی: آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر کے مطابق اس طرح کے واقعات پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کا ناقابل تردید ثبوت ہیں۔

’توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال سے انکار کرے گی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کا اسپاٹ ایل این جی کارگو کے لیے عالمی ٹینڈر جاری

انڈر 18 ایشیا کپ ہاکی: پاکستان اور بھارت سیمی فائنل میں آمنے سامنے

آبنائے ہرمز اور منجمد اثاثوں پر پیشرفت، امریکا ایران سمجھوتے کی راہ ہموار

گیس صارفین کے لیے بڑی خوشخبری متوقع، مقامی گیس کی کم قیمتوں کا فائدہ عوام تک پہنچانے کی تیاری

اسلام آباد سمیت بالائی علاقوں میں موسلا دھار بارش نے گرمی کا زور توڑ دیا

ویڈیو

صدر ٹرمپ کو دھچکا،امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد منظور کر لی

گلگت بلتستان: ووٹرز کی آسانی اور انتخابی آگاہی کے لیے اقدامات کا مطالبہ

سیاست ہمارے خون میں شامل ہے، مشاہداللہ (مرحوم) کی صاحبزادی لامعہ مشاہد نے سیاست میں آنے کا اشارہ دیدیا

کالم / تجزیہ

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے