اسکرینز پر کام کے دوران آنکھوں کی تھکن، حل کیا ہے؟

پیر 17 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بہت سے افراد اب کئی کئی گھنٹے لیپ ٹاپ، موبائل فونز، ٹی وی یا دیگر ڈیجیٹل اسکرینز کے سامنے گزارتے ہیں اور آن لائن روزگار سے لگے لوگوں کے حوالے سے تو یہ دورانیہ دیگر کے مقابلے کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے جو آنکھوں پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک نے 18سال سے کم عمر صارفین کا اسکرین ٹائم محدود کردیا

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈیجیٹل اسکرینز اب اتنی عام ہو چکی ہیں کہ یہ نہ صرف دفاتر بلکہ گھروں، اسکولوں اور دکانوں میں بھی عام استعمال کی جاتی ہیں۔

آنکھوں کی صحت اور دیکھ بھال سے متعلق سرگرم تنظیم امریکن آپٹومیٹرک ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کام کرنے والے تقریباً 10 کروڑ 40 لاکھ امریکی دن میں 7 سے زائد گھنٹے اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ زیادہ اسکرین ٹائم آنکھوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے اور اسکرین کے سامنے زیادہ دیر وقت گزارنے سے آنکھوں میں خشکی یا پانی آنا، دھندلا نظر آنا اور سر درد جیسی شکایات ہو سکتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اسکرین کا زیادہ استعمال بعض افراد بالخصوص بچوں میں مایوپیا (نزدیک کی نظر کی کمزوری) کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اسکرین کے سامنے کام کرنے والے بعض افراد میں ’ورٹیگو‘ یعنی چکر آنے کی بھی شکایت ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے: اسکرین بچوں کی صحت پر کیا منفی اثرات ڈالتی ہے؟

اسکرین کی وجہ سے آنکھوں میں مسئلہ ہونے کی ایک عام وجہ یہ بھی ہے کہ جب آپ کافی دیر تک اسکرین کو قریب سے دیکھتے رہتے ہیں تو اس سے آنکھوں کے پٹھوں میں کھنچاؤ آتا ہے۔

’آنکھوں کے پٹھے سارا دن کھنچاؤ جھیلنے کے لیے نہیں بنے‘

امریکن آپٹو میٹرک ایسوسی ایشن کے صدر اسٹیون ریڈ کا کہنا ہے کہ آنکھوں کے پٹھے سارا دن کھنچے رہنے کے لیے نہیں بنے ہیں۔

اسٹیون ریڈ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے بہت سے افراد آتے ہیں جنہیں کمپیوٹر کے استعمال کی وجہ سے سر اور آنکھوں میں درد یا دھندلا پن جیسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وہ اپنے مریضوں کو آنکھوں کے چیک اپس اور اسکرین بریکس لینا ہی تجویز کرتے ہیں۔

کتنے منٹ بعد اسکرین بریک لیا جائے؟

امریکی شہر انڈیانا پولس کے مڈ ویسٹ آئی انسٹی ٹیوٹ کے ماہر چشم راج مٹوری کمپیوٹر کے سامنے کام کرنے والوں کو اسے 20، 20، 20 رول پر عمل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

راج مٹوری کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر کے سامنے بیٹھنے والے افراد ہر 20 منٹ بعد اسکرین بریک لیں۔

مزید پڑھیں: آنکھوں اور آئی فون کی اسکرین میں کتنا فاصلہ ہونا چاہیے؟

انہوں نے بتایا کہ اس بریک کے دوران آپ 20 فٹ دور کسی چیز کو غور سے 20 سیکنڈز کے لیے دیکھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بریک کے دوران کسی ایسی چیز کو دیکھیں جو آپ سے دور ہو کیوں کہ ایسا کرے سے آنکھوں کے پٹھوں کو آرام ملتا ہے۔

اسکرین پر زیادہ دیر دیکھنے سے آنکھوں میں خشکی کا مسئلہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔

پلکیں جھپکانا کتنا اہم؟

ریاست اوہائیو کے غیر مافع بخش میڈیکل سینٹر ’کلیو لینڈ کلینک‘ کے مطابق عام طور پر ہم ایک منٹ میں تقریباً 18 سے 22 بار پلکیں جھپکتے ہیں۔ لیکن جب ہم اسکرین پر زیادہ دیر دیکھتے ہیں تو یہ شرح کم ہو کر صرف 3 سے 7 بار فی منٹ رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں آنکھوں کے قطروں کی ضرورت پیش آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خبردار! ہیڈ فونز کا مسلسل استعمال قوت سماعت متاثر کر رہا ہے

ماہرین کہتے ہیں کہ اس صورت میں اگر آپ تھوڑی دیر کے لیے باہر جا سکتے ہیں تو بہت اچھا ہے لیکن اگر آپ کے پاس باہر جانے کا وقت نہیں ہے تو سیکنڈ کا وقفہ بھی مددگار ثابت ہو گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سیکیورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا میں انٹیلیجنس پر مبنی کارروائیاں، فتنہ الخوارج کے 23 دہشتگرد ہلاک

ہڈیوں جیسے میٹیریلز تیار، مصنوعی کولہے زیادہ مضبوط اور دیرپا بنانے میں کامیابی

مظفرآباد میں تعلیمی ادارے کے پرنسپل پر فائرنگ، مبینہ ملزم گرفتار

وکلا اور اکاؤنٹنٹس کی ملازمتیں شدید خطرے میں: مائیکروسافٹ اے آئی کے سربراہ کا انتباہ

عید الاضحیٰ پر شدید گرمی کا امکان: محکمہ موسمیات نے 25 سے 31 مئی تک ملک گیر ہیٹ ویو کی پیشگوئی کردی

ویڈیو

بڑی شخصیت کی ایران میں انٹری، ایران امریکا ڈیل کا مسودہ تیار، فائنل راؤنڈ پاکستان میں، اسرائیل کو منہ کی کھانا پڑی

پاکستان ٹی وی کا خصوصی دستاویزی پروگرام ’بھارت کی ساکھ داؤ پر، پاکستانی بیانیے کی فتح‘، سچائی کی ایک لازوال کہانی‘

پاک چین دوستی کا جشن، پاکستانی قیادت کا سی پیک اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر زور

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟