اسرائیل نے غزہ جنگ بندی معاہدے میں توسیع کی منظوری دے دی

اتوار 2 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل نے غزہ میں سیزفائر کے پہلے مرحلے کے اختتام پر جنگ بندی معاہدے کو توسیع دینے کی منظوری دے دی۔

جنگ بندی میں توسیع کا منصوبہ امریکا نے پیش کیا تھا جسے کے تحت غزہ میں رمضان کے درمیان اور اس کے بعد اپریل کے وسط تک جنگ بندی جاری رہے گی۔

یہ بھی پڑھیے: 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کے بدلے 140 سے زائد فلسطینی قیدی رہا

حماس اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کا پہلا مرحلہ ہفتے کے روز ختم ہونا تھا تاہم اب اس میں توسیع کی منظوری دی گئی ہے جس کے بعد غزہ میں مستقل امن کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان باقی ماندہ فلسطینی قیدیوں اور اسرائیلی یرغمالیوں کا تبادلہ بھی ہوگا۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتیرس نے اس سے قبل خبردار کیا ہے کہ مستقل جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی نہ ہونے کی صورت میں غزہ میں دوبارہ تباہی شروع ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ غزہ میں 15 مہینوں سے جاری تباہ کن جنگ 19 جنوری کو ایک جنگ بندی معاہدے کے ذریعے ختم ہوئی تھی جس کے بعد علاقے میں امدادی کاروائیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘