ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، جو منگل کی شام سے شدید علیل بتائے جا رہے تھے، پہلی بار استنبول اور ازمیر میں منظرعام پر آگئے۔
ترک رہنما نے استنبول کے پرانے اتاترک ہوائی اڈے پر ٹیکنو فیسٹ ایئر شو کا دورہ کیا جہاں فوج کے ڈرونز اور ہوائی جہازوں کی نمائش کی جارہی تھی۔
69 سالہ ترک رہنما جب استنبول ایوی ایشن فیسٹیول کے اسٹیج سے باہر آئے تو انہوں نے اپنے حامیوں پر پھول بھی پھینکے۔ اس وقت وہ مسکرا رہے تھے۔
اس کے بعد انہوں نے مغربی ساحلی شہر ازمیر میں ایک بڑی انتخابی ریلی سے خطاب بھی کیا۔ واضح رہے کہ ازمیر کو اپوزیشن کا بڑا قلعہ تصور کیا جاتا ہے تاہم گزشتہ روز ازمیر میں صدراردوان کی انتخابی ریلی غیرمعمولی طور پر بڑی تھی۔ صدر اردوان نے استنبول کی تقریب اور ازمیر کی ریلی کے ویڈیو کلپ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بھی اپ لوڈ کیا۔
Bizim İzmir aşkımız fark atıyor! ❤️ pic.twitter.com/L9TPoPBWLZ
— Recep Tayyip Erdoğan (@RTErdogan) April 29, 2023
ازمیر میں صدر اردوان ہاتھ میں مائیک پکڑے، ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے صحت مند دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے خطاب میں فروری میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کے لیے حکومت کی امدادی کوششوں کا تذکرہ کیا۔ اس زلزلہ کے نتیجے میں 50,000 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم صدر نے خطاب میں اپنی بیماری یا منظر سے غائب رہنے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
توقع ہے کہ صدر اردوان آج اتوار کو دارالحکومت انقرہ میں دوبارہ انتخابی مہم شروع کریں گے۔
واضح رہے کہ ترکیہ کے صدر منگل کی شام ایک براہ راست ٹی وی انٹرویو کے دوران اچانک شدید تکلیف میں مبتلا ہوگئے تھے اور وہ انٹرویو سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔
وزیر صحت فرحتین کوکا نے بعد میں بتایا کہ صدر اردوان ’’معدے کے انفیکشن‘‘ میں مبتلا ہوگئے تھے۔ انہوں نے بدھ اور جمعرات کو ہونے والی انتخابی ریلیوں کو منسوخ کردیا تھا۔
ترکیہ کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر اردوان گیسٹرو کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے تھے، یہ ایسی بیماری ہے جو چند دنوں میں آسانی سے ختم ہوجاتی ہے۔
ترک صدر نے ہفتے کے روز آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف اور لیبیا کے وزیر اعظم عبدالحمید دبیبہ کے ساتھ ایک تقریب میں بھی شرکت کی۔ جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے متعدد ایشوز پر ٹیلی فونک گفتگو بھی کی۔
واضح رہے کہ صدراردوان ترکی میں 14 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں تیسری بارحصہ لے رہے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہورہا ہے کہ اس بار ترک صدر کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔














