چینی سائنسدانوں پر امریکا میں ’ایگروٹیررازم ہتھیار‘ اسمگل کا الزام، کیا نتائج ہوسکتے ہیں؟

بدھ 4 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں 2 چینی محققین پر خطرناک حیاتیاتی فنگس اسمگل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جسے ممکنہ ’ایگروٹیررازم ہتھیار‘ قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ہالی ووڈ فلمیں بھی امریکا چین ٹیرف جنگ کی زد میں آگئیں

 امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق33 سالہ یونکنگ جیان اور 34 سالہ زونیونگ لیو پر امریکی محکمہ انصاف نے سازش، اسمگلنگ، جھوٹے بیانات دینے اور ویزا فراڈ کے الزامات عائد کیے ہیں۔

یہ دونوں افراد چین کے شہری ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ’فوزیریم گرامینیارم‘ نامی فنگس امریکہ میں اسمگل کرنے کی کوشش کی، جو گندم، چاول، مکئی اور جو جیسی فصلوں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے اور انسانوں و مویشیوں کے لیے زہریلا ثابت ہو سکتا ہے۔

پس منظر

یونکنگ جیان یونیورسٹی آف مشیگن میں تحقیقاتی فیلو کے طور پر کام کر رہی تھیں، جبکہ ان کے ساتھی زونیونگ لیو چین کی ایک یونیورسٹی میں اسی فنگس پر تحقیق کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا چین سے کیوں الجھنا نہیں چاہتا؟

تحقیقات کے مطابق، لیو نے جولائی 2024 میں ڈیٹرائٹ میٹروپولیٹن ایئرپورٹ کے ذریعے اس فنگس کو امریکا میں اسمگل کرنے کی کوشش کی، جہاں اسے ان کے بیگ میں چھپا پایا گیا۔

ابتدائی طور پر لیو نے اس کی تردید کی، لیکن بعد میں اعتراف کیا کہ وہ یونیورسٹی آف مشیگن کی لیبارٹری میں اس پر تحقیق کرنا چاہتے تھے۔

قومی سلامتی پر خدشات

امریکی حکام کے مطابق یہ فنگس ’ہیڈ بلائٹ‘ نامی بیماری کا سبب بنتا ہے، جو فصلوں کو تباہ کر دیتا ہے اور اس کے زہریلے اثرات انسانوں اور مویشیوں کی صحت کے لیے خطرناک ہیں۔

اسے ممکنہ ’ایگروٹیررازم ہتھیار‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یونکنگ جیان کے الیکٹرانک آلات سے چینی کمیونسٹ پارٹی سے وابستگی اور چینی حکومت سے تحقیق کے لیے فنڈنگ کے شواہد بھی ملے ہیں۔

یونیورسٹی کا مؤقف

یونیورسٹی آف مشیگن نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہی ہے۔ یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ جیان کی تحقیق کے لیے چینی حکومت سے کوئی فنڈنگ نہیں لی گئی تھی۔

قانونی کارروائی

یونکنگ جیان کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور وہ ڈیٹرائٹ کی وفاقی عدالت میں پیشی کا سامنا کریں گی۔

زونیونگ لیو کے خلاف بھی قانونی کارروائی جاری ہے۔ یہ واقعہ امریکا میں چینی محققین کی سرگرمیوں پر بڑھتی ہوئی نگرانی اور قومی سلامتی کے خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔

یہ واقعہ امریکا اور چین کے درمیان تعلیمی اور تحقیقی تعاون پر اثرانداز ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 6 خوارج ہلاک، 2 جوان شہید

مولانا کو اقتدار میں حصہ نہ ملنے پر شہدا کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے، رانا سکندر حیات

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی پرویز خٹک سے ملاقات، صوبے کے لیے مشترکہ مشاورت پر اتفاق

ایف نائن پارک میں ایک بھی درخت نہیں کٹے گا، کنکریٹ اسٹرکچر نہیں بنائیں گے، محسن نقوی کا اعلان

پیٹرولیم لیوی پر حکومت و جماعت اسلامی مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور حافظ نعیم الرحمان کی ملاقات کا امکان

ویڈیو

میرٹ پر 5 لاکھ کروم بکس تقسیم ہوں گی، دانش اسکولوں میں جدید تعلیمی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی، وزیر اعظم شہباز شریف

حرمین شریفین ہماری ریڈلائن، مکہ دفاعی معاہدے سے مخالف قوتوں کو پریشانی لاحق ہے، مولانا عبدالخبیر آزاد

پاکستان میں کم عمر خواتین بریسٹ کینسر کا شکار کیوں ہو رہی ہیں؟ خاموش گلٹی بھی خطرے کی گھنٹی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟