میتھائل برومائیڈ اسکینڈل بے نقاب، کمپنی کا لائسنس معطل، ایک ملین ڈالر کی شپمنٹس روک دی گئیں

اتوار 13 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے محکمہ تحفظِ نباتات میں میتھائل برومائیڈ سے متعلق ایک بڑا اسکینڈل بے نقاب کرتے ہوئے ایک مشکوک کمپنی کا لائسنس معطل کر دیا ہے اور تقریباً ایک ملین ڈالر مالیت کی شپمنٹس کی کلیئرنس روک دی گئی ہے۔

ڈی پی پی میں جاری بڑی کریک ڈاؤن مہم کے تحت حکومت نے میتھائل برومائیڈ کی درآمد سے متعلق پالیسی کا ازسرِنو جائزہ لینے کے بعد اس کی غیر ضروری درآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

وفاقی وزیر برائے قومی تحفظِ خوراک و تحقیق رانا تنویر حسین کی قیادت میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن (ڈی پی پی) نے اپنے نظام، آپریشنز اور ضوابط میں بہتری لانے کے لیے کئی اصلاحاتی اور تادیبی اقدامات کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:تحفظِ خوراک کے چیلنجز سے نمٹنا ہے تو جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ہوگا، صدر مملکت

ان اصلاحات کے تحت وزیرِ برائے تحفظِ خوراک نے متعدد تذویراتی اقدامات شروع کرنے کی ہدایت دی، جن میں ٹیسٹنگ لیبارٹریز کی اپ گریڈیشن اور جدید ادارہ جاتی ڈھانچے کا قیام شامل ہے، جو کہ عالمی فائیٹو سینیٹری معیارات سے ہم آہنگ ہے۔

ان اقدامات کا مقصد بین الاقوامی تجارتی تقاضوں پر پاکستان کی مطابقت کو بہتر بنانا اور برآمدی مسابقت کو فروغ دینا ہے، ان اقدامات میں سب سے نمایاں کام سائنسی بنیادوں پر درآمدی شرائط کا ازسرِ نو تعین تھا، جس سے میتھائل برومائیڈ کے غیر ضروری استعمال میں نمایاں کمی آئی۔

اس تبدیلی سے خاص طور پر کپاس، اناج، دالوں اور دیگر اجناس کی درآمدات پر فی کنٹینر 30 سے 40 ہزار روپے کی بچت ہوئی، جسے درآمدی صنعت نے سراہا ہے اور اسے کیمیائی ادویات کے معقول استعمال کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں:نگراں دور حکومت میں گندم کی درآمد سے کاشتکار بحران سے دوچار ہوا، وزیر خوراک پنجاب بلال یاسین

وزیر نے بدعنوانیوں کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے۔ ایک تفصیلی داخلی آڈٹ سے انکشاف ہوا کہ ایک کمپنی مشکوک ذرائع سے میتھائل برومائیڈ درآمد کر رہی تھی۔ رانا تنویر کی ہدایت پر ڈی پی پی نے تھرڈ پارٹی ویری فکیشن، دستاویزات کی چھان بین اور دیگر تحقیقات کے بعد مذکورہ کمپنی کا لائسنس فوری طور پر معطل کر دیا۔

مزید برآں، پاکستان کسٹمز کے تعاون سے چار زیرِ التواء شپمنٹس، جن کی مالیت ایک ملین ڈالر تھی، کلیئر ہونے سے قبل بندرگاہ پر روک دی گئیں۔

یہ اقدامات نہ صرف مضرِ صحت اشیاء کی درآمد کو روکتے ہیں بلکہ وزارت کے عدم برداشت کے مؤقف اور ضوابط کی سختی سے پابندی کے عزم کا مظہر ہیں، ان خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کے خلاف تادیبی کارروائیاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں:یوٹیلیٹی اسٹورز کی تنظیمِ نوَ ہوگی، ختم یا بند نہیں کر رہے، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

وزیر برائے تحفظ خوراک رانا تنویرحسین بارہا اس امر پر زور دے چکے ہیں کہ خوراک کی سیکیورٹی سے وابستہ تمام اداروں میں شفافیت، جوابدہی اور ادارہ جاتی دیانت داری کو یقینی بنایا جائے۔

اعلیٰ سطحی فراڈ کی بروقت نشاندہی اور مؤثر قانونی کارروائی کو نہ صرف اسٹیک ہولڈرز بلکہ عوامی حلقوں میں بھی سراہا گیا ہے۔ اس سے نظام کو کرپشن سے پاک کرنے، منصفانہ مقابلے کے فروغ، اور قومی و بین الاقوامی تجارتی معیارات کے مطابق زرعی نظام کو استوار کرنے کے عزم کو تقویت ملی ہے۔

رانا تنویر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزارتِ قومی تحفظِ خوراک اصلاحات کے عمل کو پوری قوت سے جاری رکھے گی اور قانون شکنی یا قومی مفاد سے غداری پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم