لکی مروت: تالاب میں نہاتے ہوئے 4 بچے ڈوب کر جاں بحق

پیر 14 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لکی مروت کے علاقے دولت خیل کے قریب افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں تالاب میں نہاتے ہوئے 4 بچے ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔

ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق واقعے کی اطلاع موصول ہوتے ہی ریسکیو 1122 لکی مروت کی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان میں ٹریفک حادثہ: پاک فوج نے بروقت ریسکیو آپریشن کرکے قیمتی جانیں بچالیں

’ریسکیو 1122 کی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام بچوں کو پانی سے نکالا اور فوری طور پر سٹی اسپتال لکی سٹی منتقل کیا، تاہم کوئی بچہ بھی جانبر نہ ہو سکا۔‘

جاں بحق بچوں کی شناخت رحیم اللّٰہ، فہیم اللّٰہ، فہد اور حماد کے ناموں سے ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: چوری کی نیت سے آنے والا شخص کنویں میں گرگیا، مدد کے لیے خود ریسکیو 1122 کو کال کرکے بلایا

ریسکیو 1122 نے والدین اور مقامی افراد سے اپیل کی ہے کہ گرم موسم میں نہانے کے لیے کھلے تالابوں یا غیرمحفوظ مقامات کا انتخاب نہ کریں اور بچوں کو بغیر نگرانی کے پانی کے قریب نہ جانے دیں۔ اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اور بروقت آگاہی نہایت ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا کے ایران پر  نئے فضائی حملے ، متعدد مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

شارجہ سے کراچی آنے والا پاکستانی کارگو کمپنی کا طیارہ لاپتا، تلاش کا عمل شروع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

فٹبال ورلڈ کپ: 2 گول کے خسارے کے باوجود ارجنٹینا کا آخری لمحات میں کم بیک، مصر کو ہراکر کوارٹر فائنل میں داخل

ویڈیو

خیبرپختونخوا حکومت کی اپنے لیے مراعات، نئے قانون میں خاص کیا ہے؟

خیبر پختونخوا اسمبلی ایک دہائی بعد بھی مکمل پیپر لیس کیوں نہ بن سکی؟

سرگودھا میں لاہور کی طرز پر شاندار ترقیاتی کام، شہری وزیراعلیٰ مریم نواز کی خدمات کے معترف

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: بھارت کی اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن

فیفا فٹبال میں چھپی صدی کی کہانی

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش