کراچی: اوسط بارش 150 ملی میٹر لیکن برداشت کرنے کی گنجائش 40 ملی میٹر، آگے کیا ہوگا؟

جمعرات 21 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں بارشوں کی ایک طویل تاریخ ہے اور اس شہر میں بارش ہمیشہ سے ایک سنگین مسئلہ رہی ہے۔ وقت کے ساتھ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بارش سے ہونے والی تباہ کاریاں کم ہوتے ہوتے ختم ہو جاتیں، لیکن ہو یہ رہا ہے کہ ہر آنے والا سال تباہی کے نئے ریکارڈ بناتا ہے۔

بارش کی تباہ کاریوں کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے بغیر منصوبہ بندی کے تعمیرات، چائنا کٹنگ، ہائی رائز بلڈنگز، نالوں پر سوسائٹیز کا بننا، اور ڈرینیج یا سیوریج کا وہی پرانا نظام جس پر وقت کے ساتھ دباؤ بہت بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں یہ کہنا کہ بارش کے وقت پانی آتا ہے تو درست ہے لیکن یہ کہنا کہ بارش کے بعد پانی نکل بھی جاتا ہے، کوئی نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی اس پر کوئی کام ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سندھ میں شدید بارشوں کا الرٹ: کراچی، حیدرآباد، سکھر اور ملحقہ علاقوں میں سیلاب کا خطرہ

مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ کراچی میں 40 ملی میٹر بارش برداشت کرنے کی گنجائش ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو 1967 میں اس شہر میں 713 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو اب تک سب سے زیادہ ہے۔ اس بارش کے دوران کشتیاں چلائی گئیں اور فوج طلب کرنا پڑی تھی۔

اسی طرح کراچی ایئرپورٹ کے علاقے میں اس سال اب تک 163 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ 1979 میں اس علاقے میں 166 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی جو اب تک کا ریکارڈ ہے۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ 5 برس کا ریکارڈ دیکھا جائے تو کراچی میں اوسط بارش 150 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کراچی کو کم از کم 150 ملی میٹر بارش کے لیے تیار رہنا چاہیے جبکہ مئیر کراچی کے مطابق شہر صرف 40 ملی میٹر بارش برداشت کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: دیرینہ دوستی کا مظہر، کنگ سلمان ریلیف کی جانب سے سیلاب زدگان کے لیے ریلیف پیکجز کی تقسیم

کراچی میں اب بھی کئی مقامات پر پانی کھڑا ہے اور کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں 2 دن سے بجلی غائب ہے جو اب تک بحال نہیں ہو سکی۔ محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی بھی کر رکھی ہے۔

بجلی کی عدم فراہمی کے باعث شہری پانی سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ بجلی نہ ہونے کے باعث موٹر کے ذریعے پانی نہیں چڑھ پا رہا اور پانی کی کمی کے باعث گھروں میں کھانا پکانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں کچھ لوگ اپنے عزیز و اقارب کے گھروں میں چلے گئے ہیں جبکہ کچھ لوگ مہنگے داموں منرل واٹر خرید کر اپنی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی میں پھر موسلا دھار بارش شروع، عوام گھروں میں رہیں، وزیراعلیٰ سندھ کا مشورہ

کراچی میں سال بھر بارش صرف مون سون کے موسم میں ہوتی ہے، اس کے علاوہ موسم خشک رہتا ہے۔ آبادی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، بے ہنگم عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں لیکن بارش کی تباہی سے بچنے کا نظام موجود نہیں ہے۔ کراچی سے کچھ فاصلے پر واقع بحریہ ٹاؤن کراچی میں پانی جمع نہیں ہوتا جبکہ کراچی کا کوئی بھی علاقہ ایسا نہیں جہاں سے پانی باآسانی نکل جاتا ہو۔ حکومت کی جانب سے ہیوی مشینری خریدی گئی ہے لیکن اس مشینری کو بھی پانی نکالنے کے لیے ڈرینیج لائن کی ضرورت ہوتی ہے، جو ایسی صورتحال میں پہلے ہی بھری ہوئی ہوتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیصل خان کا یوٹرن، الزامات کے بعد بھائی عامر خان سے معافی مانگ لی

یہ ننھے پھول قوم کا مستقبل تھے، نواز شریف کا ٹیوشن سینٹر سانحہ میں 14 بچوں کی موت پر اظہار رنج و غم

آزاد کشمیر: عام انتخابات سے قبل سیاسی جوڑ توڑ، تنویر الیاس پیپلز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے مستعفی

الیکشن کمیشن  نے خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق اہم ہدایات جاری کردیں

کیا سجاد علی نے بھارتی ریئلٹی شو کو اپنے گانے کی اجازت دی تھی؟ حقیقت سامنے آگئی

ویڈیو

امریکا، ایران مذاکرات کا اگلا دور آج دوحہ میں، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا اولین ہدف

فٹبال ورلڈ کپ: سعودی آرامکو کی انعامی مہم، جانیے تحائف کی تفصیل

سندھ طاس معاہدہ: پانی، امن اور مستقبل کی کہانی

کالم / تجزیہ

عالمی ریکارڈ کا حامل پاکستانی ڈاک ٹکٹ

تحریک انصاف اور محمود اچکزئی: ارادے کیا ہیں؟

جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں