ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سرخ گوشت کھانے سے انسان کے خون کی بڑی شریان (ایبڈومینل آؤرٹک اینیورزم – AAA) میں جان لیوا بیماری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
امریکی جریدے JAMA Cardiology میں شائع اس تحقیق کے مطابق، سرخ گوشت اور دیگر حیوانی غذا کے ہاضمے کے دوران آنتوں میں بننے والا ایک کیمیائی مادہ TMAO (ٹریمیتھائل امائن این آکسائیڈ) خون میں زیادہ مقدار میں پایا جائے تو یہ بیماری کے خطرات میں اضافہ کر دیتا ہے۔
ایبڈومینل آؤرٹک اینیورزم (AAA) کیا ہے؟
یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دل سے نکلنے والی بڑی شریان (aorta) کی دیوار کمزور ہو کر پھول جاتی ہے۔
اگر یہ شریان پھٹ جائے تو 80 فیصد کیسز میں موت واقع ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے سرخ گوشت اور چکنائی والی غذا حاملہ خواتین میں ذیابیطس کا خطرہ بڑھا سکتی ہے: تحقیق
اس بیماری کی کوئی واضح علامات نہیں ہوتیں جب تک کہ شریان پھٹ نہ جائے، جس سے پیٹ میں شدید اندرونی خون بہتا ہے۔
تحقیق کے نتائج
تحقیق میں یورپ کے 237 اور امریکا کے 658 افراد کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا، جن میں صحت مند افراد اور AAA کے مریض دونوں شامل تھے۔
نتائج کے مطابق، جن افراد کے خون میں TMAO کی سطح زیادہ تھی، ان میں AAA ہونے کا خطرہ 3 گنا زیادہ تھا۔
بلند TMAO سطح تیزی سے بڑھنے والے خطرناک اینیورزم سے بھی دو گنا زیادہ وابستہ پائی گئی۔
ماہرین کی آراء
تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر اسکاٹ کیمرون کا کہنا ہے، یہ نتائج بتاتے ہیں کہ TMAO کی سطح کو کم کرنے سے اس بیماری کی روک تھام اور علاج میں مدد مل سکتی ہے، جس کے لیے فی الحال صرف جراحی یا اسٹنٹ ڈالنے کے آپشنز دستیاب ہیں۔
یہ بھی پڑھیے وہ 6 غذائیں جن کے استعمال سے الزائمر کے خطرے سے بچا جا سکتا ہے
سینئر محقق ڈاکٹر اسٹینلی ہیزن نے کہا کہ TMAO آنتوں کے جراثیم کے ذریعے بنتا ہے اور اس کی مقدار سرخ گوشت اور حیوانی غذا زیادہ کھانے سے بڑھ جاتی ہے۔ ادویات کے ذریعے اس عمل کو جانوروں پر قابو کیا جا چکا ہے، لیکن انسانوں کے لیے ابھی ادویات دستیاب نہیں ہیں۔
احتیاطی تدابیر
اس تحقیق کے مطابق سرخ گوشت کا کم استعمال خطرہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
عمر، سگریٹ نوشی اور دیگر طبی مسائل بھی AAA کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔
مستقبل میں خون کا ٹیسٹ ایجاد ہونے کا امکان ہے جو اس بیماری کے خطرے کی پیش گوئی کر سکے گا۔
اگرچہ یہ تحقیق ابتدائی نوعیت کی ہے، اس ضمن میں مزید مطالعات کی ضرورت ہے، تاہم اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ خوراک میں پرہیز اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں AAA جیسی جان لیوا بیماری کے خلاف مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔












