کیا تھائی وزیر اعظم کی غیرمحتاط گفتگو ان کی اقتدار سے بیدخلی کا سبب بن سکتی ہے؟

جمعہ 29 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تھائی لینڈ کی آئینی عدالت وزیر اعظم معطل پییٹونگٹارن شیناواترا کے خلاف اہم کیس میں آج (بروز جمعہ) فیصلہ سنانے والی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سزا یافتہ شخص کو وزیر کیوں بنایا؟ تھائی لینڈ کی عدالت نے وزیراعظم کو برطرف کردیا

یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب ان کی ایک لیک شدہ فون کال منظرِ عام پر آئی جس میں انہوں نے کمبوڈیا کے سابق وزیر اعظم ہن سین سے مبینہ طور پر غیر مناسب گفتگو کی تھی۔

اس انکشاف نے ملک میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی اور فوجی و راجائی حلقوں میں شدید ناراضگی کو جنم دیا۔

انگریزی اخبار الجزیرہ میں شائع رپورٹ کے مطابق اگر عدالت نے انہیں برطرف کرنے کا فیصلہ دیا تو پییٹونگٹارن 2008 کے بعد ایسی پانچویں وزیر اعظم ہوں گی جنہیں عدالت یا دیگر اداروں نے اقتدار سے ہٹایا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر پییٹونگٹارن کو برخاست کر دیا گیا تو ملک میں فوری انتخابات یا نئی سیاسی صف بندی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس کیس نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ تھائی سیاست کس حد تک غیر مستحکم ہے اور ادارہ جاتی کشمکش کس طرح جمہوری عمل کو متاثر کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا کے ایران پر  نئے فضائی حملے ، متعدد مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

شارجہ سے کراچی آنے والا پاکستانی کارگو کمپنی کا طیارہ لاپتا، تلاش کا عمل شروع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

فٹبال ورلڈ کپ: 2 گول کے خسارے کے باوجود ارجنٹینا کا آخری لمحات میں کم بیک، مصر کو ہراکر کوارٹر فائنل میں داخل

ویڈیو

خیبرپختونخوا حکومت کی اپنے لیے مراعات، نئے قانون میں خاص کیا ہے؟

خیبر پختونخوا اسمبلی ایک دہائی بعد بھی مکمل پیپر لیس کیوں نہ بن سکی؟

سرگودھا میں لاہور کی طرز پر شاندار ترقیاتی کام، شہری وزیراعلیٰ مریم نواز کی خدمات کے معترف

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: بھارت کی اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن

فیفا فٹبال میں چھپی صدی کی کہانی

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش