کم جونگ کی بکتر بند ٹرین میں کیا خاص ہے؟

بدھ 3 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن ایک بار پھر اپنے آباؤ اجداد کی مشہور بکتر بند سبز ٹرین میں چین کے دورے پر بیجنگ پہنچے ہیں۔

یہ ٹرین محض ایک سواری نہیں بلکہ شمالی کوریا کی حکمران نسل کی پہچان اور طاقت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

یہ ٹرین کئی دہائیوں سے کم خاندان کے زیرِ استعمال ہے۔ کم جونگ اُن کے والد کم جونگ اِل اور دادا کم اِل سُنگ بھی ہوائی سفر سے گریز کرتے ہوئے انہی بکتر بند ڈبوں میں لمبے سفر کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:یوکرائن کیخلاف روس کا ساتھ دینے والے شمالی کوریائی فوجیوں کے لیے اعزازات

پرانے وقتوں میں اس ٹرین پر شاندار ضیافتیں ہوا کرتی تھیں، جن میں فرانسیسی شراب اور تازہ لوبسٹر پیش کیے جاتے تھے۔

ٹیکنالوجی اور سہولتوں کے لحاظ سے بھی یہ ٹرین منفرد ہے۔ بکتر بند ہونے کے باعث یہ صرف 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے۔

ٹرین کے اندر کانفرنس رومز، بیڈ رومز، سیٹلائٹ فون، فلیٹ اسکرین ٹی وی اور ایک مکمل آفس موجود ہے۔ ماضی میں بتایا گیا کہ کم خاندان کے لیے تقریباً 20 خصوصی ریلوے اسٹیشن بھی تعمیر کیے گئے تھے تاکہ ان کے سفر محفوظ رہیں۔

کم جونگ اُن نے اس ٹرین کے ذریعے نہ صرف چین بلکہ روس کا سفر بھی کیا ہے جہاں وہ صدر پیوٹن سے ملے تھے۔

ریاستی میڈیا کے مطابق یہ ٹرین شمالی کوریا کے اندرونی پروپیگنڈا کا بھی حصہ ہے، جسے عام شہریوں سے حکمرانوں کے “قریبی تعلق” کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

پیونگ یانگ کے قریب ایک مقبرے میں اس تاریخی ٹرین کے ڈبے کا ماڈل بھی رکھا گیا ہے جہاں کم جونگ اُن کے والد اور دادا کی باقیات محفوظ ہیں۔

یوں یہ ٹرین شمالی کوریا کی سیاست، طاقت اور تاریخ کی ایک چلتی پھرتی یادگار بن چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کفایت شعاری اقدامات: قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں ورک فرام ہوم پالیسی کے نفاذ سمیت اہم فیصلے

ملکہ ترنم کی 100ویں سالگرہ: اے وطن کے سجیلے جوانو سے چاندنی راتیں تک، نورجہاں کے نغمے آج بھی جوان

کراچی بندرگاہ پر پاکستان اور امریکا کی مشترکہ کارروائی، افغانستان میں تیار منشیات سری لنکا اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

ایمرجنسی کن حالات میں لگائی جا سکتی ہے؟

جماعت اسلامی کا اسلام آباد لانگ مارچ مؤخر، وزیراعظم سے ملاقات تک ملتان میں قیام کا اعلان

ویڈیو

’بڑا ہوکر اپنے والد کی طرح پولیس افسر بنوں گا‘، شہید ایس پی اکبر شنواری کے بیٹے ایمل کا عزم

تحریک انصاف کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے، عمران خان مذاکرات کے ذریعے ہی باہر آسکتے ہیں، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان

27 ستمبر احتجاج: پی ٹی آئی کے مکمل خاتمے کا پلان؟ محسن نقوی نے وارننگ دیدی

کالم / تجزیہ

سید مودودیؒ آج بھی کیوں پڑھے جا رہے ہیں؟

اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے

سومنات: جب تاریخ سیاسی نعرہ بن جائے