سپریم کورٹ میں بین المذاہب ہم آہنگی اور بنیادی حقوق پر سمپوزیم

جمعرات 16 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ میں بین المذاہب ہم آہنگی اور بنیادی حقوق کے موضوع پر سمپوزیم منعقد ہوا، جس کے مہمانِ خصوصی مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل محمد بن عبدالکریم العیسیٰ تھے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ اسلام برداشت، رواداری اور قانون کی حکمرانی کا درس دیتا ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ میں آئینی ترمیم پر بحث، ججز کے سوالات نے سماعت کو نیا رخ دے دیا

انہوں نے کہا کہ بنیادی حقوق کسی بھی معاشرے کے استحکام کی ضمانت ہیں اور دعا کی کہ یہ سمپوزیم قانون کی بالادستی کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو۔

محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام انصاف پسند دین ہے جو مساوات اور رواداری کی تعلیم دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بروقت اور سستے انصاف کی فراہمی معاشرے کے استحکام کا باعث بنتی ہے، جبکہ ناانصافی معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کرتی ہے۔

مزید پڑھیں:‘گلگت بلتستان میں مقامی طور پر استعمال ہونے والی اشیا پر ٹیکسز عائد نہ کیے جائیں،’ سپریم کورٹ کے ریمارکس

سمپوزیم میں سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، سپریم کورٹ و ہائیکورٹ کے ججز اور قانونی ماہرین نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آسٹریلوی تاجر چینی جاسوسوں کو معلومات دینے کے جرم میں قصوروار قرار

دبئی میں سائبر قوانین سخت، حملوں کی ویڈیو بنانے پر برطانوی سیاح سمیت متعدد افراد گرفتار

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت اجلاس، پیٹرولیم قیمتوں کے اثرات، کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ

گوجرانوالہ کی ایتھلیٹ حرم ریحان نے بھارتی ریکارڈ توڑ کر گینز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا

سرکاری پینشن نظام کی اصلاحات، پاکستان کا50 کروڑ ڈالر قرض پروگرام تجویز

ویڈیو

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

ایران کا سپریم لیڈر کیسے منتخب ہوتا ہے، اس کے پاس کیا اختیار ہوتا ہے؟، امریکا و اسرائیل کو بڑا دھچکا

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے