سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے خیبرپختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عہدہ سنبھالنے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
اڈیالہ جیل سے جاری اپنے خصوصی پیغام میں عمران خان نے کہا کہ سہیل آفریدی ان کے آئی ایس ایف کے دیرینہ اور وفادار ساتھیوں میں سے ہیں، اور انہیں یقین ہے کہ وہ تحریک انصاف کے نظریے کے مطابق خیبرپختونخوا میں انقلابی اقدامات کریں گے۔
انہوں نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو بھی حکومت کی منتقلی کے باوقار عمل پر سراہا۔
مزید پڑھیں: علی امین گنڈاپور کی زیرِ صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، نامزد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی مکمل حمایت کا اعلان
عمران خان نے اپنے پیغام میں گزشتہ 2 سال کے دوران پیش آنے والے 4 بڑے واقعات۔ 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے کے سانحات پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ دہرایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان تمام واقعات میں بڑی تعداد میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور اب وقت آ گیا ہے کہ ان کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہوں۔
“میں سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ بننے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ سہیل آفریدی میرے آئی ایس ایف کے دیرینہ اور وفادار ساتھیوں میں سے ہیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ وہ توقعات اور تحریک انصاف کے نظرئیے کے عین مطابق، بحیثیت چیف منسٹر خیبرپختونخوا میں انقلابی کام کریں گے۔…
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) October 17, 2025
عمران خان نے کہا کہ 9 مئی کے حوالے سے ان کا مؤقف ابتدا سے واضح ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر لائی جائے اور واقعے کی آزادانہ تفتیش کی جائے، مگر اب تک اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: ہمارے ہوتے ہوئے کوئی ملٹری آپریشن نہیں کر پائے گا، نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا پہلا خطاب
انہوں نے کہا کہ متاثرہ فریق کے خلاف جھوٹے مقدمات بنا کر بغیر شفاف تحقیقات کے ملٹری کورٹس اور کینگرو کورٹس سے 10، 10 سال کی سزائیں سنائی گئیں، حالانکہ اس دن نہتے شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے میں بھی اسی طرز پر ریاستی طاقت کا استعمال کیا گیا، اور اگر ماضی کے واقعات کی تحقیقات ہو جاتیں تو یہ سانحات دوبارہ پیش نہ آتے۔
عمران خان نے خبردار کیا کہ اگر نہتے شہریوں کے قتلِ عام پر جوڈیشل کمیشن نہ بنایا گیا تو آئندہ اس سے بھی بڑے سانحات ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے پر فیاض الحسن چوہان نے معافی کیوں مانگی؟
انہوں نے تحریک انصاف کے کارکنان سے اپیل کی کہ نماز جمعہ کے بعد خیبرپختونخوا میں احتجاج کرتے ہوئے چاروں واقعات پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کریں۔
عمران خان نے کہا کہ آج ملک میں سب کچھ ’عاصم لاء‘ کے تحت چل رہا ہے، عدالتیں فوجی عدالتوں کی طرز پر کام کر رہی ہیں، اور 26ویں غیر آئینی ترمیم کے بعد انصاف کی توقع قریباً ختم ہو چکی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ آرمی چیف عاصم منیر، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے تحریک انصاف کا مینڈیٹ چوری کرکے فارم 47 کے ذریعے نااہل اور غیرمنتخب حکومت مسلط کی ہے۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب، سوشل میڈیا پر جتنے منہ اتنی باتیں
عمران خان نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس دہشتگردی، امن، یا خارجہ پالیسی کے معاملات میں نہ وژن ہے، نہ اہلیت۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ بندوق کے زور پر مسائل کا حل کبھی دیرپا نہیں ہوا، افغانستان کے ساتھ تنازعات کا حل سیاسی ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگر انہیں پیرول پر رہا کیا جائے، تو وہ افغانستان کے ساتھ امن اور تعلقات کی بحالی کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔













