الیکٹرک گاڑیوں کا عالمی رجحان، پاکستان پیچھے کیوں؟

جمعہ 24 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں تیل کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے باعث الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں تیزی آئی ہے، تاہم پاکستان میں یہ رجحان اب بھی محدود ہے۔ حکومت اب تک صرف الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے لیے پالیسی تشکیل دے سکی ہے، جبکہ گاڑیوں کے لیے جامع ای وی پالیسی تاخیر کا شکار ہے۔

الیکٹرک موٹرسائیکل پر سبسڈی، 9 ہزار روپے ماہانہ قسط

سیکریٹری صنعت سیف انجم نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے لیے پالیسی مکمل کر لی ہے۔

2.5 لاکھ روپے مالیت کی الیکٹرک موٹرسائیکل پر 80 ہزار روپے سبسڈی دی جائے گی، جس سے ماہانہ 9 ہزار روپے قسط پر موٹرسائیکل حاصل کی جا سکے گی۔

مزید پڑھیں: پاکستان چین کی مدد سے الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں پیشرفت کا خواہاں

17 بینک اس اسکیم میں شامل ہیں۔ مکمل ادائیگی کے بعد موٹر سائیکل خریدار کے نام پر منتقل ہو گی۔

نئی ای وی پالیسی 2026 تا 2030، 100 ارب روپے کی سبسڈی

سیف انجم کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی (2026-2030) کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت پانچ سال میں 100 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔

پالیسی سے سالانہ ایک ارب ڈالر تک تیل کی درآمدات میں بچت اور 45 کروڑ ڈالر کے طبی اخراجات میں کمی کی توقع ہے۔

مزید پڑھیں: چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

2030 تک 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز کا منصوبہ

حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک 3 ہزار ای وی چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں، جنہیں نیپرا ریگولیٹ کرے گا۔ ای وی چارجنگ کے لیے بجلی کا نرخ 92 روپے فی یونٹ سے کم کر کے 39 روپے فی یونٹ کر دیا گیا ہے۔

ایک موبائل ایپ بھی تیار کی جا رہی ہے تاکہ صارفین کو قریبی چارجنگ اسٹیشن کی معلومات میسر ہوں۔ مزید برآں، اب ہر نئے پیٹرول پمپ پر چارجنگ اسٹیشن بنانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے ٹیرف میں بڑی کمی کا اعلان

آئی ایم ایف کا ٹیکس بڑھانے کا دباؤ

اجلاس میں بتایا گیا کہ آئی ایم ایف نے الیکٹرک گاڑیوں پر ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت نے تجویز دی ہے کہ ودہولڈنگ ٹیکس بیٹری سائز کے بجائے گاڑی کی مارکیٹ ویلیو پر عائد کیا جائے۔

اس کے ساتھ ٹیکس کی قابل حد کو 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم آئی ایم ایف اس پر فی الحال متفق نہیں ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp