مئی میں جنگ کے بعد پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے سے بڑھتے مالی نقصان کے باعث ایئر انڈیا نے بھارتی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ چین سے رابطہ کرکے سنکیانگ کے حساس فوجی فضائی زون ‘ہوٹان روٹ’ کے استعمال کی اجازت دلائے۔
چند ہفتے قبل بھارت اور چین کے درمیان 5 سال بعد براہ راست پروازیں بحال ہوئی تھیں، جو ہمالیہ میں سرحدی جھڑپوں کے بعد معطل تھیں۔ اب ایئر انڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے اپریل میں لگائی گئی پابندیوں نے اس کی طویل پروازوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایندھن کے اخراجات میں 29 فیصد اضافہ اور پروازوں کے وقت میں 3 گھنٹے تک اضافہ کمپنی کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع کردی
ایئر انڈیا کا کہنا ہے کہ اگر ہُوٹان روٹ مل جائے تو ہفتہ وار 1.13 ملین ڈالر کے نقصان میں کمی آ سکتی ہے۔ کمپنی نے حکومت سے عارضی سبسڈی اور پرانے ٹیکس مسائل کے حل کی درخواست بھی کی ہے، تاکہ پاکستانی فضائی حدود بند ہونے سے پیدا شدہ مالی دباؤ میں کمی آسکے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق فضائی پابندی کا سالانہ مالی اثر 455 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کمپنی کو ویسے ہی 439 ملین ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ چین سے راستہ مانگنے کا مقصد امریکا، یورپ اور کینیڈا جانے والی پروازوں کے وقت اور اخراجات میں کمی لانا ہے۔
ایئر انڈیا نے تجویز دی ہے کہ چین ہُوٹان، کاشغر اور ارمچی ایئرپورٹس کو ایمرجنسی لینڈنگ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت بھی دے، لیکن اس پورے علاقے کی فوجی حساسیت اور بلند پہاڑی سلسلوں کے باعث بین الاقوامی ایئرلائنز عام طور پر اس راہداری سے گریز کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: معرکہ حق کے بعد فضائی حدود کی بندش، پاکستان کو کتنا نقصان ہوا؟ وزیر دفاع نے تفصیلات پیش کردیں
پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کے بعد ایئر انڈیا نے دہلی واشنگٹن پرواز معطل کر دی ہے جبکہ سان فرانسسکو کے لیے براہ راست پروازیں بھی ‘ناقابلِ عمل’ قرار دی جا رہی ہیں۔ اس وجہ سے مسافروں کی بڑی تعداد کم وقت والی غیر ملکی ایئرلائنز کا رخ کر رہی ہے۔













