امریکا میں پولیس نے 2 امریکی اور 2 چینی شہریوں کو جدید جدید این ویڈیا جی پی یوز غیر قانونی طور پر چین بھیجنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
محکمہ انصاف کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے ستمبر 2023 سے جدید اے آئی ٹیکنالوجی والے پروسیسرز کو ملائیشیا اور تھائی لینڈ کے راستے چین منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے مائیکروسافٹ کو خیرباد کہہ دیا، سرکاری دستاویزات مقامی سافٹ ویئر میں منتقل
استغاثہ کے مطابق گروہ نے جعلی دستاویزات، جھوٹے کنٹریکٹس اور غلط معلومات فراہم کرکے 400 این ویڈیا اے ون ہنڈریڈ (A100) جی پی یوز چین پہنچا دیے تھے، جبکہ پچاس این ویڈیا ایچ ٹو ہنڈریڈ (H200) جی پی یوز اور دس ہیولٹ پیکارڈ انٹرپرائز سپر کمپیوٹرز پر مشتمل دو مزید کھیپیں حکام نے راستے میں ہی پکڑ لیں۔
عدالت کے ریکارڈ کے مطابق ملزمان نے یہ سامان خریدنے اور بھیجنے کے لیے ایک ریئل اسٹیٹ کمپنی کو استعمال کیا اور اس کے بدلے میں 3.89کمپنی کو ملین ڈالر سے زائد رقم وصول کی۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا امریکا پر جوابی وار، کمپیوٹر چپ کے اہم مٹیریل کی برآمدات محدود کردیں
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چین 2030 تک مصنوعی ذہانت میں دنیا کی سرکردہ طاقت بننے کی کوشش کر رہا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کو عسکری اور نگرانی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش بھی جاری ہے، اسی لیے حساس ٹیکنالوجی کی اسمگلنگ کو قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔














