امریکی سیاست میں اشتعال انگیز بیانیہ حد سے بڑھ چکا، گیلپ سروے

جمعرات 4 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گیلپ کے بدھ کو جاری کردہ ایک تازہ سروے کے مطابق امریکا میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے حامی اب اس بات پر متفق ہوتے جا رہے ہیں کہ مخالفین کے خلاف اشتعال انگیزاورسخت سیاسی زبان حد سے بڑھ چکی ہے۔

سروے میں اگرچہ ہر جماعت کے حامی زیادہ تر الزام مخالف پارٹی پر ڈالتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ اتفاق پایا جاتا ہے کہ سیاسی بیانات میں شدت اور سختی خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں صحت کے نظام میں نسلی تعصب پھیل رہا ہے، سروے رپورٹ کیا کہتی ہے؟

گیلپ کے تجزیہ کار جیفری جونز کے مطابق ماضی کے مقابلے میں اب زیادہ تعداد میں امریکی سمجھتے ہیں کہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں ہی مخالفین پر تنقید کے لیے اشتعال انگیز زبان کا حد سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔

سروے میں 69 فیصد شرکا نے کہا کہ ریپبلکن پارٹی اور اس کے حمایتی حد سے بڑھ چکے ہیں، جو 2011 کے مقابلے میں 16 پوائنٹس زیادہ ہے۔

اسی طرح 60 فیصد نے کہا کہ ڈیموکریٹس بھی اپنے بیانیے میں حد سے تجاوز کر رہے ہیں، جو 9 پوائنٹس کا اضافہ ہے۔

گیلپ کے مطابق دونوں جماعتوں کے ووٹرز تقریباً مکمل اتفاق سے یہ سمجھتے ہیں کہ دوسری پارٹی نے حدود پار کی ہیں، اس ضمن میں 94 فیصد ڈیموکریٹس ریپبلکنز کو اور 93 فیصد ریپبلکنز ڈیموکریٹس کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔

مزید پڑھیں:58 فیصد امریکی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے حامی، سروے رپورٹ

اس کے برعکس، زیادہ تر لوگ اپنی ہی سیاسی جماعت کے بیانیے کو حد سے بڑھا ہوا تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں، اور 2011 کے مقابلے میں اس رجحان میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔

یہ سروے یکم سے 16 اکتوبر کے درمیان اس واقعے کے چند ہفتے بعد ہوا، جب قدامت پسند کارکن چارلی کرک کو یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔

گیلپ نے 2011 کے اُس سروے جیسے سوالات استعمال کیے، جو گیبریئل گففرڈز پر حملے کے بعد کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: سائنسدانوں کی بڑی تعداد امریکا کیوں چھوڑنا چاہتی ہے؟

ایک اور سوال میں 71 فیصد امریکیوں نے سیاسی تشدد کا ذمہ دار انتہاپسند خیالات کے آن لائن فروغ کو قرار دیا، 64 فیصد نے سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں کو قصوروار ٹھہرایا، جبکہ 52 فیصد نے ذہنی صحت کے نظام کی کمزوری کو سبب بتایا۔

اس کے مقابلے میں 45 فیصد نے آسان اسلحہ تک رسائی کو ذمہ دار کہا اور ایک تہائی سے بھی کم افراد نے منشیات، عمارتوں کی سیکیورٹی یا تفریحی صنعت کے تشدد کو سبب سمجھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایرانی حکومت ہوش مندی سے کام لے ورنہ پورا خطہ پہلے سے زیادہ امریکی گرفت میں چلا جائےگا، منصور جعفر

پاکستان اور کشمیر کو دنیا کی کوئی طاقت الگ نہیں کر سکتی، فرزانہ یعقوب

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!