بیرونِ ملک مقیم ایک شخص کو نادرا ریکارڈ میں مردہ ظاہر کیے جانے کے معاملے پر سندھ ہائیکورٹ میں ان کے شناختی کارڈ کی بحالی کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار عمران ملک کے وکیل کنول غوری کے مطابق عمران ملک کو ان کے اہلِ خانہ نے جعلی دستاویزات کے ذریعے مردہ قرار دلوایا۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران ملک برطانیہ میں مقیم تھے، تاہم اہلِ خانہ نے جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوا کر نادرا کے ریکارڈ میں انہیں مردہ ڈکلیئر کروا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: معین خان کے انتقال کی جعلی خبر پر ایم کیو ایم رہنما کی دعائے مغفرت کی درخواست، ویڈیو وائرل
درخواست گزار 4 برس بعد اکتوبر میں وطن واپس آئے تو بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے دوران انہیں بتایا گیا کہ ان کا شناختی کارڈ بلاک ہے۔
درخواست گزار کے مطابق نادرا سے رجوع کرنے پر معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں ان کی وفات اپریل 2024 میں ظاہر کی گئی ہے۔
یونین کونسل کے ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار کی والدہ نورین ملک نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے اجرا کے لیے درخواست دی تھی۔
مزید پڑھیں: ستارا خودکشی کیس میں نیا موڑ، ڈاکٹر پر جعلی پوسٹ مارٹم رپورٹ دینے کا دباؤ
وکیل کے مطابق درخواست گزار کے بھائی کامران ملک نے میوہ شاہ قبرستان میں تدفین کا جعلی سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیا۔
وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ خاندان کی اس جعل سازی اور فراڈ کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس عبدالمبین لاکھو نے دریافت کیا کہ اگر درخواست گزار کو مردہ قرار دے دیا گیا تھا تو وہ وطن واپس کیسے آ گئے۔
مزید پڑھیں:مبینہ پولیس مقابلے میں نوجوانوں کی موت، نبیل گبول کا سندھ حکومت کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم
جس پر وکیل درخواست گزار نے وضاحت کی کہ درخواست گزار کا پاسپورٹ منسوخ نہیں ہوا تھا، اسی لیے وہ پاکستان واپس آنے میں کامیاب ہو گئے، تاہم اب وہ بیرونِ ملک سفر نہیں کر سکتے۔
وکیل کے مطابق درخواست گزار کی والدہ کو دباؤ میں لا کر انہیں وراثت سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لہٰذا عدالت نادرا کو شناختی کارڈ بحال کرنے کا حکم دے۔
سماعت کے دوران جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے کو نادرا کے دائرہ اختیار تک محدود رکھتے ہوئے دیکھے گی۔
عدالت نے نادرا سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 4 ہفتوں میں جواب طلب کر لیا۔














