چین کا خلائی صنعت کو وسعت دینے کا فیصلہ، تمام کمپنیاں ایک مرکز میں کام کریں گی

ہفتہ 18 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین اپنی خلائی صنعت کو وسعت دینے کے لیے بیجنگ میں ایک مخصوص صنعتی مرکز تعمیر کررہا ہے جسے ‘سیٹلائٹ ٹاؤن’ کا نام دیا گیا ہے اور اس کا بڑا حصہ 2026 کے آخری مہینوں تک تیار ہوجائے گا۔

یہ ٹاؤن زمین پر ایک ایسا علاقہ ہوگا جہاں سیٹلائٹ بنانے والی کمپنیاں اور ماہرین مل کر کام کریں گے تاکہ چین کی خلائی معیشت کو مزید فروغ دیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: چینی کمپنی گی اسپیِس اور پاک سیٹ کے درمیان سیٹلائٹ کنیکٹیوٹی کے فروغ کا معاہدہ

چینی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس وقت چین میں خلا میں بھیجے جانے والے 60 فیصد سے زائد مشن نجی یا تجارتی نوعیت کے ہیں اور بہت سی نئی کمپنیاں اس شعبے میں سرمایہ کاری کررہی ہیں۔

اس سیٹلائٹ ٹاؤن کو بنانے کا مقصد یہ ہے کہ ایک ہی جگہ پر تمام سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ سیٹلائٹ تیار کرنے، ان کے پرزے بنانے اور انہیں کنٹرول کرنے کا عمل آسان ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں: چین نے مزید 8 سیٹلائٹس زمین کے مدار میں پہنچا دیے

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے سیٹلائٹ انٹرنیٹ، خلا میں ڈیٹا پروسیسنگ اور 6G جیسی جدید ٹیکنالوجی پر کام تیز ہوجائے گا۔

یہ مرکز نہ صرف نئی ایجادات کے لیے بہترین جگہ ثابت ہوگا بلکہ یہاں بڑی مقدار میں سرمایہ کاری اور ماہرین کی دستیابی سے چین کی خلائی مارکیٹ کھربوں روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین کے ساتھ اسپیس ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں مزید تعاون بڑھانا چاہتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

سادہ الفاظ میں یہ مرکز مستقبل کی خلائی ٹیکنالوجی کا ہیڈ کوارٹر ثابت ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp