بنگلہ دیش کی عارضی حکومت نے 10 بڑے کاروباری گروپس اور برطرف وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے خاندان کی مبینہ جائیدادیں ضبط کی ہیں، جن کی مالیت قریباً 67 ہزار کروڑ روپے بنتی ہے۔
مزید پڑھیں: شیخ حسینہ واجد کی حوالگی، بھارت نے بنگلہ دیش کی درخواست پر غور شروع کردیا
بنگلہ دیش کے مؤقر روزنامے ’دی ڈیلی اسٹار‘ کے مطابق ملک میں 56 ہزار کروڑ روپے اور بیرون ملک قریباً 11 ہزار کروڑ روپے کے اثاثے منجمد اور ضبط کیے جا چکے ہیں۔ اب تک 104 مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں، جن میں سے کچھ کے فیصلے بھی ہو چکے ہیں۔
حکومت نے بیرون ملک سے اثاثے واپس لانے کے لیے قانونی درخواستیں بھیجی ہیں اور منی لانڈرنگ روکنے کے قوانین میں ترمیم کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: شیخ حسینہ واجد کی سزا پر بنگلہ دیشی عوام کیا کہتے ہیں؟
سرکاری بینک کے گورنر نے کہا ہے کہ ایس عالم گروپ کی دائر درخواست کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی اور اثاثوں کی واپسی کا عمل عام طور پر 4 سے 5 سال میں مکمل ہوتا ہے۔ لندن میں سابق وزیر اراضی کے کیس میں بھی امید ہے کہ مقدمہ بلا اعتراض حل ہو جائے گا۔














