برطانیہ میں ایک خاتون تقریباً اپنی نومولود بیٹی کی مستقل تحویل سے محروم ہو گئی جب بالوں کے نمونے پر مبنی منشیات ٹیسٹ نے انہیں دوبارہ منشیات استعمال کرنے والی قرار دے دیا حالانکہ خاتون کا مؤقف تھا کہ وہ نشہ چھوڑ چکی تھیں۔ اس واقعے کے بعد ماہرین نے فیملی کورٹس میں استعمال ہونے والے اس سائنسی طریقہ کار کی تشریح اور اس کے استعمال پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
چین کا عجیب و غریب بیوٹی ٹرینڈ، خوبصورت دکھنے کے لیے کھوپڑی کے ساتھ خطرناک چھیڑ چھاڑ
برطانوی میڈیا کے مطابق ایملی (فرضی نام) ماضی میں کیٹامین استعمال کرتی تھیں جس کے باعث سنہ 2022 کے آخر میں ان کی شیر خوار بیٹی کو حکومتی تحویل میں لے لیا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد انہوں نے منشیات سے نجات کے لیے باقاعدہ بحالی پروگرام میں شرکت کی اور متعدد کورسز کیے اور ہفتے میں 2 بار پیشاب کے ٹیسٹ بھی کرواتی رہیں تاکہ ثابت کر سکیں کہ وہ نشہ چھوڑ چکی ہیں۔
لیکن جب سوشل ورکرز نے ان سے بالوں کا نمونہ طلب کیا تو انہیں یقین تھا کہ یہ ان کی بے گناہی ثابت کرے گا۔ اس کے برعکس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کے بالوں میں کیٹامین کی بلند مقدار پائی گئی جو گزشتہ 6 ماہ کے دوران منشیات کے فعال استعمال کی نشاندہی کرتی ہے۔
مزید پڑھیے: کیا رنگ گورا کرنے والے انجیکشن کینسر کا باعث بن سکتے ہیں؟
کیٹامین ایک طاقتور دوا ہے جو اصل میں بیہوشی کے لیے خاص طور پر سرجری اور ایمرجنسی میڈیکل حالات میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ دماغ اور جسم کے درمیان رابطے کو عارضی طور پر سست کر دیتی ہے جس سے درد کا احساس کم ہو جاتا ہے۔ تاہم بعض لوگ اسے نشہ آور دوا کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ وقتی طور پر ذہنی بے حسی، حقیقت سے کٹاؤ، چکر اور سرور جیسی کیفیت پیدا کر سکتی ہے۔ مسلسل یا غلط استعمال سے یادداشت، دماغی صحت اور مثانے سمیت جسم کے کئی حصوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
خیر مذکورہ رپورٹ کی بنیاد پر عدالت نے ان کی بیٹی کو واپس دینے کی درخواست مسترد کر دی۔
ماہرین کے مطابق بالوں کے ذریعے منشیات کی جانچ ایک تسلیم شدہ سائنسی طریقہ ہے مگر اس کے نتائج کئی عوامل سے متاثر ہو سکتے ہیں جن میں بالوں کی ساخت، رنگ، کیمیائی ٹریٹمنٹ، بالوں کی افزائش کی رفتار اور ماحول شامل ہیں۔
خاندانی قوانین کی ماہر بیرسٹر سارہ برینسن کے مطابق بعض اقسام کے بال، خصوصاً سیاہ یا زیادہ میلانین والے بال، منشیات کے ذرات زیادہ جذب کر سکتے ہیں جس سے نتائج میں نسلی تعصب جیسا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ دراصل مختلف نسلی گروہوں میں بالوں کی ساخت اور میلانین کی مقدار مختلف ہو سکتی ہے اور اس فرق کی وجہ سے ٹیسٹ کے نتائج غیر ارادی طور پر بعض لوگوں کے خلاف جا سکتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کے بال ایک جیسے نہیں ہوتے۔ بعض لوگوں کے بال، خاص طور پر سیاہ، گھنے یا زیادہ میلانین والے بال، ماحول یا خون میں موجود منشیات کے ذرات کو دوسرے بالوں کے مقابلے میں زیادہ جذب کر سکتے ہیں۔
سارہ برینسن نے بتایا کہ ایک تحقیق میں سیاہ بالوں نے سرخ بالوں کے مقابلے میں 15 گنا زیادہ منشیاتی ذرات جذب کیے جس کا مطلب ہے کہ یکساں ماحول میں رہنے والے 2 افراد کے نتائج مختلف آ سکتے ہیں۔
سنہ2024 میں برطانیہ کی کورٹ آف اپیل بھی ایک ایسے ہی کیس میں نچلی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے چکی ہے جس میں صرف بالوں کے ٹیسٹ کی بنیاد پر 3 بچوں کو خاندان سے الگ کیا گیا تھا۔
عدالتی جج نے قرار دیا تھا کہ اگرچہ یہ سائنس مستند ہے تاہم اس میدان میں ارتقا جاری ہے اور ایسے شواہد کو انتہائی احتیاط سے دیکھا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ مغربی ممالک میں عدالتیں بچوں کی تحویل (کسٹڈی) کے فیصلے میں سب سے زیادہ اہمیت بچے کے بہترین مفاد اور تحفظ کو دیتی ہیں۔ اگر کسی خاتون یا مرد کے بارے میں یہ خدشہ ہو کہ وہ منشیات کے استعمال کے باعث بچے کی جسمانی، ذہنی یا جذباتی دیکھ بھال مناسب طور پر نہیں کر سکتے تو عدالت احتیاطاً کسٹڈی محدود یا معطل کر سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ نشے کی لت بعض اوقات فیصلہ سازی، ذمہ داری نبھانے کی صلاحیت اور گھر کے محفوظ ماحول کو متاثر کر سکتی ہے اسی لیے عدالتیں طبی رپورٹس، بحالی کے شواہد اور سماجی کارکنوں کی رائے کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بالوں کی دیکھ بھال سے متعلق کچھ مشہور باتیں، حقیقت یا فسانہ؟
جہاں تک بالوں کے ٹیسٹ کا معاملہ ہے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ان ٹیسٹس کی آزادانہ تشریح نہ کی گئی تو مزید والدین بھی غلط نتائج کی بنیاد پر اپنے بچوں کی تحویل سے محروم ہو سکتے ہیں۔














