ایئرپورٹس پر مسافروں کو آف لوڈ کرنے کا معاملہ، لاہور ہائیکورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا

جمعرات 18 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور دیگر متعلقہ حکام کو سختی سے یاد دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کو سفر سے روکنے یا فلائٹ سے آف لوڈ کرنے کی صورت میں اسی وقت تحریری وجوہات فراہم کرنا آئینی اور قانونی تقاضا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے یہ ریمارکس ملتان بینچ میں سماعت کے بعد جاری کیے گئے تحریری حکم میں دیے۔ بدھ کے روز عدالت نے شہری شہریار قندیل کی درخواست کی سماعت کی تھی، جس میں انہوں نے وزارت خارجہ اور دیگر اداروں کے خلاف مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں مکمل اور درست سفری دستاویزات کے باوجود فلائٹ سے آف لوڈ کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے رواں برس 51 ہزار پاکستانی مسافروں کو مختلف وجوہات پر آف لوڈ کیا گیا، ڈی جی ایف آئی اے

جسٹس علی ضیاء باجوہ نے کہا کہ عدالت ایف آئی اے اور تمام متعلقہ حکام کو یہ یاد دلانا ضروری سمجھتی ہے کہ کسی بھی ایسے اختیار کا استعمال جو کسی فرد کے بنیادی حقوق کو متاثر کرے، اس کی واضح اور غیر مبہم قانونی بنیاد ہونی چاہیے۔

جسٹس باجوہ نے واضح کیا کہ کوئی بھی انتظامی صوابدید، خواہ کتنی ہی وسیع کیوں نہ ہو، شہریوں کی آزادی کو محدود کرنے کا جواز فراہم نہیں کر سکتی، جب تک کہ وہ کسی واضح قانونی شق یا قانونی اختیار سے ثابت نہ ہو۔

عدالت نے قرار دیا کہ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ کسی شخص کو آزادانہ نقل و حرکت یا ملک چھوڑنے کے حق سے محروم نہ کیا جائے، خصوصاً اس صورت میں جب اس کے پاس درست سفری دستاویزات موجود ہوں، الا یہ کہ یہ اقدام قانون، ضابطے اور منصفانہ طریقہ کار کے مطابق ہو۔

یہ بھی پڑھیے: محسن نقوی اور خواجہ آصف کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولتوں پر عدم اطمینان کا اظہار

عدالتی حکم میں مزید کہا گیا کہ دورانِ سماعت قانون افسران اور ایف آئی اے حکام نے ایک بار پھر مزید مہلت طلب کی تاکہ وہ یہ واضح کر سکیں کہ کون سی مخصوص قانونی شق یا قاعدہ انہیں آخری لمحے پر مسافروں کو روکنے یا آف لوڈ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

جسٹس باجوہ نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ قانون افسران کے مطابق درخواست گزار کو آف لوڈ کرنے کی کوئی تحریری وجہ ریکارڈ پر موجود نہیں۔ عدالت نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ اگلی سماعت سے قبل درخواست گزار کو اس کے آف لوڈ کیے جانے کی تحریری وجوہات فراہم کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیے: آف لوڈنگ سے بچنے کے لیے مسافر کن چیزوں کا خیال رکھیں؟

عدالت نے واضح کیا کہ تحریری وجوہات فراہم کرنا محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ شفافیت، جوابدہی اور متاثرہ فرد کے حقِ داد رسی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بنیادی حفاظتی اقدام ہے۔ تحریری وجوہات فراہم نہ کرنا نہ صرف فطری انصاف اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ آئین میں دیے گئے آزادیٔ نقل و حرکت کے حق کی بھی نفی ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی ہے، جہاں قانون افسران سے توقع کی گئی ہے کہ وہ ایسے مخصوص قانونی نکات اور دفعات سے عدالت کی معاونت کریں گے جو شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کی اجازت دیتی ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟