انتظار حسین اور ’آب حیات‘

اتوار 21 دسمبر 2025
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اردو کے ممتاز فکشن نگار انتظار حسین کی پیدائش کو آج 100 برس پورے ہو گئے ہیں۔ اس موقعے کی مناسبت سے اردو نثر میں ان کی پسندیدہ ترین کتاب ’آب حیات‘ کے بارے میں خامہ فرسائی کا خیال سوجھا ہے۔

مولانا محمد حسین آزاد کی یہ کتاب انتظار صاحب کو اس قدر عزیز تھی کہ ہندوستان سے  ہجرت کرتے وقت وہ جو دو کتابیں  اپنے ساتھ لاہور لائے ان میں سے ایک ’آب حیات‘ تھی۔

نان فکشن کی کسی کتاب کے بارے میں اپنی ازحد پسندیدگی ظاہر کرنے کے لیے انتظار صاحب کا ایک انداز یہ تھا کہ وہ اسے ناول قرار دے ڈالتے  تھے۔

اس سلسلے کی پہلی مثال ’آب حیات‘ اور آخری مثال مشتاق احمد یوسفی کی ’آب گم‘ تھی۔ ان 2  کے بیچ کلیات میرؔ اور غالبؔ کے خطوط بھی ان کے بنائے ناول کے پیمانے پر پورے اترے۔

یہ بھی پڑھیں: شاعرِ مشرق اور مصورِ مشرق کی پتنگ بازی

آب حیات کو اردو کا پہلا بڑا ناول کہنے پر انہیں جس قسم کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، اس کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:

’یہ فقرہ لکھ کر میں تو چور بن گیا۔ اپنی ادبی زندگی میں جن قبیح حرکتوں کی وجہ سے مجھ پر بے بھاؤ کی پڑی ہیں، انہیں میں شاید یہ بیان بھی شمار کیا گیا‘۔

’ایکسپریس‘ اخبار کے لیے سنہ 2009 میں ایک انٹرویو میں انتظار صاحب سے میں نے پوچھا تھا کہ ان کی نظر میں ’آب حیات‘ کس حساب میں ناول ہے؟

اس سوال پر ان کا جواب تھا:

’مولانا محمد حسین آزاد کی آب حیات محققوں کے پڑھنے کی کتاب نہیں۔ ہمارے محقق ذہنی طور اتنے معذور ہیں کہ وہ آب حیات کی معنویت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔اس کتاب نے ادبی تاریخ کو زندہ کر کے دکھایا ہے۔ اس اعتبار سے میں اسے ناول کہتا ہوں۔ اس میں پورا عہد جیتا جاگتا نظر آتا ہے۔ شاعر چلتے پھرتے نظر آتے ہیں، لڑتے بھڑتے دکھائی دیتے ہیں، محفلیں تصویریں بن کر سامنے آجاتی ہیں۔ اس میں ناول کے امکانات نظر آتے ہیں‘۔

آب حیات کے ناول ہونے کی بات انتظار صاحب نے ناصر کاظمی سے اپنے مکالمے میں بھی چھیڑی ہے۔

میرؔ کے کردار کو انہوں نے آزاد کا تخلیقی کارنامہ ٹھہرایا اور اسے ’آب حیات‘ کا نمایاں کردار قرار دیتے ہوئے لکھا: ’اس ناول میں ان گنت ضمنی کردار بھی پھیلے پڑے ہیں اور اس طرح کہ چار چار چھ چھ سطریں لکھ دیں اور پوری شخصیت سامنے آگئی‘۔

ناصر کاظمی اس پر یہ  گِرہ لگاتے  ہیں: ’یہ کردار غضب سے آتے ہیں اور جانے کے بعد بھی آنکھوں میں پھرتے رہتے ہیں۔ میر درد کے ذکر میں صرف تسبیح کے بیان سے پورے شخص کو سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ مشاعروں کا نقشہ یوں کھینچا ہے کہ پڑھنے والا آنکھوں سے دیکھتا ہے اور کانوں سے سنتا ہے‘۔

انتظار صاحب کو شمس الرحمان فاروقی کا ناول ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ اور ان کے افسانے بہت پسند تھے۔ ان تخلیقات کو سراہتے ہوئے بھی انہیں ’آب حیات‘ کا خیال آیا تھا۔

ان کے بقول ’انہوں نے اپنے افسانوں میں مختلف شاعروں کی شخصیتوں کو افسانوی کرداروں کے سانچے میں ڈھالنے کی کوششیں کی ہیں اور اس سے آگے بڑھ کر ایک پورے ادبی عہد کو ناول کی سطح پر بیان کرنے کی کوشش کی ہے، اس سب کے پیچھے مجھے مولانا محمد حسین آزاد اپنی آب حیات بغل میں دبائے کھڑے نظر آتے ہیں‘۔

انتظار حسین کے  آب حیات کو ناول قرار دینے پر شفقت تنویر میرزا نے 1960 میں ہفت روزہ ‘نصرت’ میں ’آب حیات ایک ناول‘  کے عنوان سے مضمون میں لکھا تھا  کہ پہلے پہل تو انہیں آب حیات بطور ناول کی بات واہیات لگی کیوں کہ ان کی دانست میں تو یہ ’اردو شاعروں کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ اور ان کے  سوانح عمر کے علاوہ زبان اردو کی عہد بہ عہد ترقیوں اور اصلاحوں کا بیان ہے‘۔

مزید پڑھیے: درختوں کے قتل پر اہل لاہور کی خاموشی

یہ رائے آب حیات کو نصابی کتاب سمجھنے اور نقادوں کی آراء کی روشنی میں بنی تھی لیکن جب انہوں نے اس پر کھلے ذہن سے دوبارہ نظر ڈالی اور اسے امتحانی آب حیات کی بجائے ایک چیزے دیگری کے طور پر پڑھا تو وہ انتظار حسین کے نقطہ نظر کے قریب آگئے اور انہیں انشا اور میرؔ رائج تصور اور اپنی  شاعری سے بنی شخصیت کے اثر سے  مختلف اور آزاد روپ میں دکھتے ہیں۔ وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں: ’آب حیات میں شاعر، شاعر سے زیادہ کردار ہیں  اور ان کے لطیفے اور نقلیں اس عہد کی رپورٹنگ ہیں۔ مسلسل جلسے آب حیات کو مجموعی طور پر وہ تسلسل دیتے ہیں جو ناول کے سوا اور کسی صنف ادب میں نہیں ہے اور تاریخ ادب میں تو بالکل ہی نہیں‘۔

انتظار صاحب کے لیے اچھی نثر اور اچھے شعر کے بارے میں بتانا مشکل ہوتا تھا کہ ان میں اچھا کیا اور کیوں ہے؟ البتہ مولانا محمد حسین آزاد کی نثر کی خوبی بیان کرنے کے لیے انہیں ٹی ای ہیوم کے ایک فقرے کا سہارا مل گیا جسے انہوں نے کچھ یوں نقل کیا ہے:

’شاید بات کچھ اس طرح کہی گئی تھی کہ اچھی نثر میں بیچ بیچ میں فقرہ اس طرح آتا ہے جیسے پھنیر سانپ پھن پھیلا کر کھڑا ہو جائے۔ میں نے سوچا کہ خود یہ فقرہ بھی کچھ ایسی ہی شان رکھتا ہے اور پھر مجھے فوراً محمد حسین آزاد کا خیال آیا۔ ارے یہ تو آزاد کی نثر کا وصف بیان ہوا ہے یا پھر عسکری صاحب کی نثر پر اس کا اطلاق ہوتا ہے مگر ایک فرق کے ساتھ۔ عسکری صاحب کے فقرے میں زہر بہت ہوتا ہے اور محمد حسین آزاد شاید کچھ اس طرح سوچتے ہیں؛

گُڑ سے جو مرے تو زہر کیوں دو

بس ان کے قلم کی نوک پر آکر گڑ ہی زہر بن جاتا ہے‘۔

عسکری کی نثر کے بارے میں انتظار صاحب کا ایک فقرہ ہم تک ناصر کاظمی کی ڈائری کے وسیلے سے بھی پہنچا ہے:

’انتظار حسین نے عسکری کے متعلق ایک فقرہ کہا کہ عسکری اردو تنقید کا غزل گو ہے۔ یہ شاید اس لیے کہ ان کے بعض فقرے غزل کے مصرعوں کی طرح نکلتے ہیں‘۔

اپنی کتاب ‘نظریے سے آگے’ میں انتظار صاحب نے آزاد کے فقروں کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ غزل کے شعروں کی طرح حافظے پر نقش ہو جاتے ہیں۔

اب ناصر کاظمی کا ایک فقرہ بھی ملاحظہ کیجیے:

’انتظار حسین کی تحریر کا کمال یہ ہے کہ وہ مردہ لمحوں کو زندہ کر دیتا ہے‘۔

عسکری صاحب اور آزاد کی نثر کے ایک ساتھ ذکر  پر عسکری کا مضمون ’مولانا محمد حسین آزاد کا طرزِ نگارش‘ ذہن میں آتا ہے جس کے آخر میں انہوں نے لکھا تھا:

’آزاد تو ہمارے ان نثر نگاروں میں ہیں جن کی کتابیں ہمارے ادیبوں کو سبق کی طرح پڑھنی چاہییں کیوں کہ ان کی نثر محض خیالات کا اظہار نہیں بلکہ تخلیق ہے‘۔

آب حیات اور آزاد کی شخصیت سے انتظار صاحب کے تعلق خاطر کا اظہار مختلف صورتوں میں ہوتا رہا۔ اپنی زندگی کے آخری برسوں میں بھی اپنے محبوب مصنف سے ان کا فعال تعلق رہا جس کی ایک مثال ان کا مضمون ’آب حیات سے فلسفہ الٰہیات تک ہے۔‘ دوسری طرف وہ آزاد کے نام پر ہونے والی تقریبات میں دل  سے شریک ہوتے تھے۔

سنہ2010  میں اوریئنٹل کالج میں آزاد کے انتقال کے 100 سال پورے ہونے پر بین الاقوامی ادبی کانفرنس میں انتظار صاحب کی شرکت میرے ذہن میں ہمیشہ زندہ رہ جانے والی یاد ہے۔

اس تقریب پر انہوں نے ’مولانا محمد حسین آزاد: آشوب سے آشوب تک‘ کے عنوان سے کالم میں ڈاکٹر اسلم فرخی کے کلیدی مقالے سے منتخب حصہ نقل کیا تو اس میں آزاد کے قید حیات سے آزاد ہونے کا تذکرہ تھا۔ اس کا ایک فقرہ میرے ذہن پر مرتسم ہے :

’خود چلے گئے اردو ادب کو آب حیات پلا گئے‘

آخر میں ایک واقعہ جو میں نے عبد الرزاق کانپوری کی کتاب ’یادِ ایام‘ میں پڑھا تھا اور ایک دن انتظار صاحب کے گھر جمنے والی مجلس میں ان کے گوش گزار کیا تو وہ بہت محظوظ ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: کرکٹ کا سچا خادم اور ماجد خان

بات کچھ یوں ہوئی کہ ڈپٹی نذیر احمد کی اردو زبان پر غیرمعمولی قدرت جانی مانی بات ہے۔ وہ ایک دفعہ ایجوکیشنل کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور آئے تو ہمدمِ دیرینہ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ ڈپٹی نذیر نے آزاد سے اپنا لیکچر ایک نظر دیکھ لینے کو کہا۔ انہوں نے اسے دِقّت نظر سے دیکھنے اور اس میں جگہ جگہ اصلاح و ترمیم کے بعد ڈپٹی صاحب سے کہا:

’بھئی نذیر ! تم اردو لکھنا بھول گئے ہو‘۔

 ڈپٹی نذیر سے یہ کہنے کی جسارت آزاد ہی کر  سکتے تھے اور یہ جملہ انتظار صاحب کو بہت پسند آیا تھا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ورک فرام ہوم، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں کمی، خیبرپختونخوا نے بھی اہم فیصلے کرلیے

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان