شمالی آئرلینڈ کے دارالحکومت بیلفاسٹ میں منگل کی شب تارکینِ وطن مخالف تشدد کی لہر کے دوران نقاب پوش افراد نے متعدد گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں کئی خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہونے پر مجبور ہو گئے۔
یہ ہنگامے ایک سوڈانی شہری کے مبینہ چاقو حملے کے بعد شروع ہوئے، مقامی سیاست دانوں اور مذہبی رہنماؤں کے مطابق حملوں کا نشانہ بننے والوں میں اکثریت سیاہ فام افراد کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں اسائلم کے نئے قوانین متعارف، پاکستانی پناہ گزینوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
اطلاعات کے مطابق سیکڑوں مظاہرین، جن میں سے کئی نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے، شمالی آئرلینڈ کے مختلف علاقوں میں پولیس پر حملہ آور ہوئے اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا۔
اس سے قبل چاقو حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں ایک شخص کی گردن اور سر پر شدید زخم آئے تھے۔
🚨🇬🇧 BREAKING: Riots erupted across Belfast, Northern Ireland, with homes and vehicles set ablaze and police vehicles coming under attack during demonstrations organized by far-right groups following a knife attack allegedly carried out by a Sudanese asylum seeker, who has since… pic.twitter.com/Ba9Rp7iAti
— Nova Intel (@intel_nova) June 10, 2026
منگل کی شام بیلفاسٹ کے مختلف علاقوں میں کئی گھروں کو جلتے ہوئے دیکھا گیا، برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی فوٹیج میں پولیس اہلکار ایک خاندان کو جلتے ہوئے گھر سے بحفاظت نکالتے دکھائی دیے۔
شمالی آئرلینڈ کی فرسٹ منسٹر مشیل اونیل نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کا کوئی جواز نہیں، ان کے بقول نقاب پوش افراد کی جانب سے خاندانوں کو ان کے گھروں سے نکالنے کے لیے آگ لگانا انتہائی بزدلانہ اور قابلِ نفرت عمل ہے۔
مزید پڑھیں: غیر قانونی تارکین وطن دنیا بھر میں سلامتی کے لیے چیلنج، ’دی گارڈین‘ کی رپورٹ میں پاکستانی مؤقف کی تائید
برطانوی وزیراعظم کیئڑ اسٹارمر نے پیر کی شب شمالی بیلفاسٹ میں ہونے والے چاقو حملے کو ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیا، پولیس کے مطابق اس واقعے کو فی الحال دہشتگردی نہیں سمجھا جا رہا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب برطانیہ میں امیگریشن کے معاملے پر پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ مختلف جماعتیں حکومت کی پناہ گزین پالیسی پر تنقید کر رہی ہیں اور دعویٰ کرتی ہیں کہ اس پالیسی کے باعث خطرناک افراد ملک میں داخل ہوئے۔

ٹیکنالوجی ارب پتی ایلون مسک نے بھی برطانیہ کی صورتحال پر تنقیدی پیغامات دوبارہ شیئر کیے، تارکینِ وطن مخالف کارکن ٹومی رابنسن کی ایک پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلسل اور بلند آواز احتجاج ہی تبدیلی لاسکتا ہے۔
شمالی آئرلینڈ کی وزیرِ انصاف نومی لانگ نے خبردار کیا کہ بعض عناصر عوام کے خوف اور غصے کو استعمال کرتے ہوئے ایک پوری نسل یا برادری کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے جائز خدشات کو شرپسند عناصر کے ہاتھوں استعمال نہ ہونے دیں۔
مزید پڑھیں: مہلک سفر: غیرقانونی تارکین وطن کی سب کچھ داؤ پر لگا کر یورپ پہنچنے کی کوشش
اپوزیشن جماعت سوشل ڈیموکریٹک اینڈ لیبر پارٹی کی رہنما کلیئر حنا نے اس تشدد کو ’نسلی بنیادوں پر ہونے والا حملہ‘ قرار دیا۔
دوسری جانب لندن میں پارلیمنٹ کے باہر بھی چھوٹے پیمانے پر مظاہرے ہوئے جبکہ برطانیہ کے دیگر شہروں سے بھی احتجاج کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی شمالی آئرلینڈ میں مبینہ جنسی زیادتی کے ایک واقعے کے بعد تارکینِ وطن مخالف فسادات پھوٹ پڑے تھے، تاہم بعد ازاں 2 لڑکوں کے خلاف عائد الزامات واپس لے لیے گئے تھے۔













