کالاباغ کے علاقہ ماڑی شہر میں لنگیاں بنانے والی آخری نسل جو ہاتھ سے لنگیاں تیار کرتی ہے

جمعہ 26 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ضلع میانوالی کے شہر کالاباغ سے 6 کلومیٹر دور پہاڑوں کے دامن میں آباد  قدیمی علاقہ ماڑی شہر لنگیاں بنانے کے حوالے سے مشہور ہے جہاں مختلف ڈیزائن میں لنگیاں تیار ہوتی ہیں۔

گزشتہ 50 سال سے ہاتھ سے لنگیاں بنانے والے کاریگر عبدالرحیم نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے باپ دادا بھی یہی کام کرتے تھے اور اب ہم بھی وہ آخری نسل ہیں جو ہاتھ سے کپڑا، چادریں، لاچہ اور لنگی بناتے ہیں، ایک لنگی 2 سے 3 ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہے اور یہ پاکستان کے علاوہ بیرون ملک متحدہ عرب امارات، دبئی، شارجہ اور دیگر ممالک میں بھی بھیجی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ کے مقبول ترین روایتی کلچوں کا سفر تندور کی دھیمی آنچ سے دلوں تک

ان کا کہنا تھا، ’میری 75 سال عمر ہو گئی اور میں تمام عمر یہی کام کرتا رہا ہوں۔ نئی نسل یہ کام نہیں سیکھ رہی۔ اس کام میں اب کوئی کمائی نہیں رہی اور نہ ہی میرے بچے یہ کام سیکھ رہے ہیں،’ یہ لنگی سر پہ رکھنے کے علاوہ بطور چادر اور تہہ بند باندھنے کے کام بھی آتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور سری لنکا کی مشترکہ فوجی مشق ’شیک ہینڈز II‘ کا تربیلا میں آغاز

شرح سود میں اضافے پر تاجر تنظیمیں مایوس، معاشی بحالی سے متصادم قرار دیدیا

ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کردی، صدر ٹرمپ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس

فیلڈ مارشل کو اللہ نے عزت دی، ایسا مقام پاکستان کو اس سے قبل کبھی نہیں ملا، گورنر پنجاب

سیکیورٹی فوسز نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنادی، طالبان چوکیاں تباہ

ویڈیو

پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کی کوششیں: شاندار ماضی، موجودہ زوال اور پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے

خیبرپختونخوا حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی، وفاق کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے چاہییں، سابق گورنر حاجی غلام علی

کیا ایران امریکا مذاکرات بحال ہوں گے؟پاکستانی شہری کیا سوچتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

ٹرمپ کا بلف

ایران، امریکا مذاکرات: اعصاب کی جنگ کون جیتے گا؟

مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟