امریکی اقدامات کے جواب میں افریقہ کے 2 ممالک کی جانب سے جوابی پابندیوں کا اعلان

جمعرات 1 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مالی اور برکینا فاسو نے امریکا کی جانب سے ان کے شہریوں پر لگائی گئی سفری پابندیوں کے جواب میں امریکی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت امریکا سے آنے والے افراد کو وہی پابندیاں اور شرائط درپیش ہوں گی جو امریکی حکومت نے ان کے شہریوں پر عائد کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:یکطرفہ امریکی پابندیوں نے اقوام متحدہ کی ماہر کو مالیاتی نظام سے باہر دھکیل دیا

مالی اور برکینا فاسو کی حکومتوں نے منگل کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے یہ اقدام ’مساوات کے اصول کے تحت‘ اٹھایا ہے۔ مالی کے وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ وہ اس فیصلے پر افسوس کرتے ہیں کہ یہ بغیر کسی پیشگی مشاورت کے لیا گیا اور اس کے جواز کے طور پر دی گئی سیکیورٹی وجوہات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔

یہ پابندیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 14 دسمبر 2025 کو برکینا فاسو، مالی، نائیجر، ساؤتھ سوڈان اور شام کے شہریوں پر عائد کی گئی سفری پابندیوں کے ردعمل میں ہیں۔ ان کے علاوہ لاؤس اور سیرالیون کے لیے نئی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں، اور فلسطینی اتھارٹی کے جاری کردہ سفری دستاویزات رکھنے والے افراد پر بھی محدود پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اب امریکی پابندیوں کی فہرست میں 19 ممالک شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی پابندیاں، بلغاریہ نے واحد آئل ریفائنری بچانے کے لیے کوششوں شروع کر دیں

نیو یارک ٹائمز کے مطابق نائیجر، مالی اور برکینا فاسو میں حالیہ فوجی بغاوتوں کے بعد فوجی حکومتیں اقتدار میں ہیں، اور ان کے رہنما زیادہ تر امریکا سے تعلقات کم کر کے روس، چین، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ساحل خطہ (نائیجر، برکینا فاسو اور مالی) دنیا میں دہشت گردی سے ہونے والی اموات کا نصف حصہ فراہم کرتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ پابندیاں قانونی مستقل رہائشی، موجودہ ویزہ ہولڈرز، سفارتکاروں یا بڑے کھیلوں کی تقریبات کے لیے سفر کرنے والے کھلاڑیوں پر لاگو نہیں ہوں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایرانی حکومت ہوش مندی سے کام لے ورنہ پورا خطہ پہلے سے زیادہ امریکی گرفت میں چلا جائےگا، منصور جعفر

پاکستان اور کشمیر کو دنیا کی کوئی طاقت الگ نہیں کر سکتی، فرزانہ یعقوب

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!