خصوصی ناکہ لگا کر مجھ سے رشوت طلب کی گئی، اسلام آباد پولیس پر فرخ کھوکھر کے سنگین الزامات

بدھ 14 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما فرخ خان کھوکھر کو گزشتہ رات اسلام آباد میں مختصر طور پر حراست میں لیا گیا تاہم بعد ازاں انہیں فوری طور پر رہا کر دیا گیا۔

رہائی کے بعد فرخ خان کھوکھر نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ کھنہ پل پر ان کے لیے خصوصی ناکہ بندی کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود ناکے پر گاڑی روکی، مکمل تعاون کیا اور پولیس کو تلاشی کی اجازت دی۔ ان کے مطابق ناکہ صرف انہیں روکنے کے لیے لگایا گیا تھا کیونکہ ان کے وہاں سے جانے کے بعد ناکہ ختم کر دیا گیا اور دوبارہ قائم نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: جے یو آئی رہنما فرخ کھوکھر کی گرفتای و رہائی

فرخ کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ ناکے پر موجود اہلکاروں نے ان سے رشوت طلب کی تاہم انہوں نے رشوت دینے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی اہلکار رشوت مانگے اس کی ویڈیو بنا کر سامنے لائی جائے کیونکہ اعلیٰ افسران ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں اب وقت بدل چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ستار بندی اور آٹھ تاریخ کو ہونے والے کنونشن میں شرکت نہ کرنے کا کہا گیا اور گاڑی پر لگے پارٹی جھنڈے اتارنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس پر انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ویڈیو بنا سکتے تھے لیکن ملک کی بدنامی کے پیش نظر ایسا نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا اسلام اباد پولیس نے فرخ کھوکھر کو گرفتار کیا تھا؟

فرخ کھوکھر کے مطابق موقع پر رش بڑھنے پر انہوں نے گاڑیاں سائیڈ کرائیں اور کہا کہ کسی قسم کی ویڈیو نہ بنائیں۔ انہوں نے آئی جی اسلام آباد سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں اور انہیں خود طلب کر کے معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر انہیں دوبارہ گرفتار کیا جاتا ہے تو ان کے کارکنان پرامن رہیں اور قانون ہاتھ میں نہ لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹھ تاریخ کو ہونے والا کنونشن ہر صورت منعقد ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان سے ملنے والے فرخ کھوکھر کون ہیں؟

فرخ کھوکھر نے کھنہ پل کے ایس ایچ او اور ایس پی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے موقع پر پہنچ کر پولیس اہلکاروں کی سرزنش کی اور معاملہ حل کرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بار بار روکنے کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے، جبکہ واپسی پر اسی مقام پر کوئی ناکہ موجود نہیں تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناکہ خصوصی طور پر انہیں روکنے کے لیے لگایا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp