سپریم کورٹ نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں زنا بالجبر کے ملزم مدثر کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ 3 رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس جمال خان مندوخیل نے کی۔ دوران سماعت عدالت نے مقدمے میں ثبوتوں اور تحقیقات کے معیار پر تفصیلی گفتگو کی اور مقدمے میں لڑکی اور ملزم کے مؤقف دونوں پر غور کیا۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور میں 2 سگی بہنوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی، 5 ملزمان گرفتار
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جتنا سنگین الزام ہو، اتنی سنجیدہ تحقیقات بھی ہونی چاہیے۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ تحقیقات میں لڑکی کے ملزم کے گھر رہنے کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم الزام سے مکمل انکار کر رہا ہے۔

جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ الزام ثابت کرنا مدعی کا کام ہے، ملزم کا نہیں۔ جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کوئی اپنی بیٹی پر جھوٹا الزام لگا کر تماشا کیوں بنائے گا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ ایسے کئی واقعات تو رپورٹ بھی نہیں ہوتے، اور میڈیکل رپورٹ بھی ملزم کے خلاف نہیں ہے، جبکہ سرکاری وکیل نے کہا کہ میڈیکل ۲ ماہ کی تاخیر سے کیا گیا۔
عدالت نے کہا کہ ہر مقدمہ ریپ کا نہیں ہوتا اور صرف لڑکی کی گواہی پر سزا دینا ممکن نہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا رضا مندی کے کیس میں زبردستی کی دفعات لاگو ہو سکتی ہیں؟ عدالت نے زور دیا کہ جو جرم ہو گا، اتنی ہی سزا دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:دہرے قتل، زنا کا ملزم 21 برس بعد بری
ملزم کے خلاف مقدمہ اس وقت درج ہوا جب خاتون کے والد نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں گزشتہ برس مدثر کے خلاف زنا بالجبر کا کیس درج کروایا تھا۔ سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد ملزم مدثر کی ضمانت منظور کرلی اور آئندہ سماعت پر مزید شواہد کی جانچ کا حکم دیا۔














