سعودی عرب نے اپنے منصوبۂ استفادہ از ہدی و اضاحی کے تحت مصر اور فلسطین کو قربانی کے گوشت کے حصے فراہم کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور بنگلہ دیش کا دو طرفہ تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق
عرب نیوز کے مطابق اس سلسلے میں قاہرہ میں سعودی سفارت خانے کے زیر اہتمام ایک باضابطہ تقریب منعقد کی گئی جس میں گوشت کی ترسیل کا عمل مکمل کیا گیا۔
یہ منصوبہ رائل کمیشن برائے مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات کے تحت چلایا جا رہا ہے۔
تقریب کی صدارت مصر میں سعودی عرب کے نائب سفیر خالد بن حماد الشمری نے کی جنہوں نے مصر کے حصے کا گوشت میجر جنرل محمد رضا کے حوالے کیا جبکہ فلسطین کا حصہ قاہرہ میں فلسطینی سفیر دیاب اللوح کے سپرد کیا گیا۔
اس موقعے پر منصوبے کے جنرل سپروائزر سعد بن عبدالرحمن الوابل بھی موجود تھے۔
تقریب کے دوران اعلان کیا گیا کہ 30 ہزار قربانی کے جانوروں کا گوشت مصر کو فراہم کیا گیا ہے جبکہ اتنی ہی مقدار ریاست فلسطین کے لیے مختص کی گئی ہے۔
مزید پڑھیے: کنگ سلمان ریلیف سینٹر کا خیبر پختونخوا میں ونٹر کِٹس کی تقسیم کا آغاز
نائب سعودی سفیر خالد بن حماد الشمری نے اس موقعے پر کہا کہ یہ منصوبہ سنہ 1983 سے جاری ہے اور قربانی کے فریضے کی انجام دہی کے لیے ایک جامع اور منظم فریم ورک فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے شفاف طریقہ کار، منصفانہ تقسیم اور دیرپا اثرات کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت قربانی کا گوشت اندرون ملک کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں مستحق مسلم افراد تک پہنچایا جاتا ہے۔
منصوبے کے جنرل سپروائزر سعد بن عبدالرحمان الوابل نے کہا کہ سعودی عرب اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ قربانی کے گوشت کو مؤثر انداز میں استعمال اور تقسیم کیا جائے اور یہ امداد تقریباً 26 اسلامی ممالک میں مستحقین تک پہنچائی جا رہی ہے۔
قاہرہ میں فلسطینی سفیر دیاب اللوح نے فلسطینی عوام کی جانب سے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سالانہ تعاون فلسطینی عوام کے لیے نہایت اہم اور قابل قدر ہے۔
مزید پڑھیں: شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت سے متعلق خبر پر وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار تشویش، جلد صحتیابی کے لیے دعا
ادھر مصر کے نمائندے نے بھی سعودی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مملکتِ سعودی عرب کی عرب اور اسلامی دنیا کے لیے مسلسل خدمات قابلِ تحسین ہیں اور انہوں نے سعودی عرب کے استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔














