تیستا ماسٹر پلان پر پیشرفت، چینی سفیر کا بنگلہ دیشی مشیر کے ہمراہ دورہ

پیر 19 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شمالی بنگلہ دیش کی ترقی کے لیے نہایت اہم سمجھے جانے والے تیستا ماسٹر پلان نے ایک بار پھر توجہ حاصل کر لی ہے، کیونکہ دریائے تیستا کے کنارے آباد مقامی آبادی مسلسل اس منصوبے کے نفاذ کا مطالبہ کر رہی ہے۔

کسانوں، ماہی گیروں اور دریا کے طاس میں رہنے والے عوام نے اس منصوبے کے حق میں مظاہرے، انسانی زنجیریں اور عوامی مہمات جاری رکھی ہوئی ہیں۔

2 کروڑ افراد کی زندگی بدلنے کا منصوبہ

ماہرین کے مطابق تیستا ماسٹر پلان پر عمل درآمد سے تقریباً 2 کروڑ افراد کی زندگیوں اور معاش میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے، جبکہ یہ منصوبہ شمالی بنگلہ دیش کی مجموعی معاشی ترقی کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

جنوری میں آغاز کی امید، تاخیر سے مایوسی

اس سے قبل ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی، آبی وسائل اور اطلاعات و نشریات کی مشیر سیدہ رضوانہ حسن نے عندیہ دیا تھا کہ منصوبے پر کام جنوری میں شروع ہو سکتا ہے، جس سے مقامی عوام میں امید پیدا ہوئی تھی۔

تاہم منصوبے کے آغاز میں تاخیر کے باعث علاقے میں مایوسی اور خدشات جنم لینے لگے تھے کہ کہیں یہ منصوبہ مزید مؤخر نہ ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیے چین کا بنگلہ دیش میں پٹ سن پر منحصر صنعتوں میں بڑی سرمایہ کاری کا عندیہ

مقامی آبادی کو اعتماد میں لینے کے لیے مشیر رضوانہ حسن نے ایک بار پھر تیستا کا دورہ کیا، اس موقع پر بنگلہ دیش میں تعینات چینی سفیر بھی ان کے ہمراہ تھے۔

دورے کو اس بات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے کہ منصوبہ دونوں ممالک کے لیے سنجیدہ اہمیت رکھتا ہے۔

چین میں منصوبے کا سنجیدہ جائزہ جاری

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر رضوانہ حسن نے بتایا کہ جب تیستا ماسٹر پلان کی تجویز چین کو بھیجی گئی تھی تو اس میں ایک واضح ٹائم لائن شامل تھی۔
ان کے مطابق چینی حکومت اس منصوبے کا انتہائی سنجیدگی سے تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چینی سفیر نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ چونکہ یہ منصوبہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد کی فلاح سے جڑا ہوا ہے، اس لیے جانچ پڑتال میں احتیاط برتی جا رہی ہے۔

رواں سال آغاز کی امید برقرار

مشیر رضوانہ حسن نے اعتماد ظاہر کیا کہ دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ منصوبے پر اسی سال عمل درآمد کا آغاز ممکن بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیے چین، بنگلہ دیش اور پاکستان کے سہ فریقی اجلاس کا آغاز، تعاون کے نئے دور کی بنیاد

انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ جنوری میں کام شروع نہ ہو سکا، تاہم عوام کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ بنگلہ دیش اور چین دونوں اپنے وعدوں کی تکمیل کے لیے پرعزم ہیں۔

تیستا کے کنارے کٹاؤ زدہ علاقوں کا معائنہ

19 جنوری کی صبح مشیر رضوانہ حسن رنگ پور سرکٹ ہاؤس سے بذریعہ سڑک کونیا تیستا پل پہنچیں، جہاں انہوں نے دریا کے کنارے کٹاؤ سے متاثرہ علاقوں کا معائنہ کیا اور متعلقہ حکام سے صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

اس دورے کے دوران رنگ پور کے ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بھی مشیر کے ہمراہ موجود تھے۔
اس کے علاوہ بنگلہ دیش واٹر ڈیولپمنٹ بورڈ، وزارتِ آبی وسائل، دیگر متعلقہ سرکاری محکموں کے سینئر افسران، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

گوگل نے اسمارٹ عینکیں متعارف کرا دیں، جیمنائی بھی اپڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف سے چینی وفد کی ملاقات، پاک چین دوستی کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

سائنسدان اب خلا سے دیکھیں گے زمین کی مسکراہٹ، چین اور یورپی خلائی ایجنسی کا تاریخی بریک تھرو

پانی کا بحران اور سندھ طاس معاہدہ: بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے پاکستان کو سنگین سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا

پاک چین دوستی کے 75 سال: پاکستان 75 روپے کا خصوصی سکہ جاری کرے گا

ویڈیو

ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد خطے میں کسی نئی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں: سینیٹر مشاہد حسین سید

عوام میں بجٹ ریلیف کی امیدیں بڑھ گئیں، سہیل آفریدی نے دھرنے کا راستہ کیوں بدلا؟

پاک چین دوستی علاقائی امن، ترقی اور عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈارکا قومی اسمبلی میں خطاب

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا