امریکا کی جانب سے غیر قانونی ہجرت کے خلاف جاری سخت کارروائی کے تحت 36 بنگلہ دیشی شہری منگل کو ملک بدر کر دیے گئے، جس کے نتیجے میں کئی خاندان شدید متاثر ہوئے۔ زیادہ تر افراد نے بہتر زندگی کی امید میں لاکھوں روپے خرچ کیے تھے، جن میں زمین، زیورات کی فروخت یا بڑے قرضے شامل تھے۔ ان کی خرچ کی گئی رقم قریباً اڑھائی کروڑ پاکستانی روپے تھی، لیکن وہ واپس خالی ہاتھ لوٹے۔
یہ گروپ، جس میں ایک خاتون بھی شامل تھی، حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دوپہر کے قریب ایک خصوصی امریکی فوجی پرواز کے ذریعے پہنچا۔امیگریشن اینڈ یوتھ پلیٹ فارم نے واپس آنے والوں کو ایمرجنسی مدد فراہم کی، بشمول ٹرانسپورٹ کی سہولت وغیرہ۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیشی مؤقف کی حمایت، پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو باضابطہ خط لکھ دیا
36 افراد میں سے 21 نوکھالی کے، 2 لکھیم پور کے، اور دیگر مختلف اضلاع جیسے منسہ گنج، ڈھاکا، لالمنیرہ، شریعت پور، برگو نا، فینی، سراج گنج، غازی پور، کشور گنج، ٹانگائیل، کومیلا، چٹگرام اور نتروکونا سے تعلق رکھتے ہیں۔ 2025 کے آغاز سے اب تک امریکا سے ملک بدر کیے جانے والے بنگلہ دیشیوں کی تعداد 293 ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق زیادہ تر افراد نے ابتدا میں قانونی طور پر برازیل کا سفر کیا تھا لیکن بعد میں میکسیکو کے راستے امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ پناہ گزینی کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد امریکی انتظامیہ نے انہیں ملک بدر کرنے کا حکم دیا۔
مزید پڑھیں: ڈائریکٹر کرکٹ بورڈ کے استعفے سے انکار پر بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کا بائیکاٹ، بی پی ایل معطل
واپس آنے والوں نے اپنی مشکلات بیان کیں۔ نوکھالی کے زاہد الاسلام نے کہا کہ انہوں نے امریکا پہنچنے کی امید میں جنوبی افریقہ کے راستے 8 ملین ٹکا بروکرز کو دیے۔ غازی پور کی سلطانہ اختر نے کہا کہ انہوں نے برازیل سے میکسیکو کی سرحد عبور کرنے کے لیے 3 ملین ٹکا خرچ کیے، جو اب مکمل طور پر ضائع ہو گئے ہیں۔
یہ ملک بدر کارروائیاں امریکی حکومت کی سخت نگرانی اور غیر دستاویزی ہجرت کے خلاف فوری اقدامات کے بعد ہو رہی ہیں، جس میں چارٹرڈ اور فوجی پروازوں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، اور بعض رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک بدر کیے گئے افراد کو ہتھکڑیاں لگا کر واپس بھیجا گیا۔














