بنگلہ دیش نے چین کے تعاون سے ایک بڑے صحت کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت بھارت سے متصل سرحد کے قریب ایک ہزار بستروں پر مشتمل جنرل اسپتال تعمیر کیا جائے گا۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بھارتی سرحد سے متصل ضلع نیلپھاماری میں ایک ہزار بستروں پر مشتمل بنگلہ دیش چین فرینڈشپ جنرل اسپتال تعمیر کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ملک کے شمالی خطے کو ایک اہم طبی مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کا شیخ حسینہ کو تقریر کی اجازت پر بھارت کے خلاف سخت ردعمل، خبردار کردیا
یہ منصوبہ قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنیک) کے اجلاس میں منظور کیا گیا، جس کی صدارت چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کی۔
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے تحت ہیلتھ سروسز ڈویژن کی جانب سے شروع کیا گیا یہ منصوبہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔
منصوبے پر جنوری 2026 سے دسمبر 2029 تک کام کیا جائے گا۔ اس کی مجموعی لاگت 2,459.35 کروڑ ٹکہ بتائی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: آئی سی سی کا دوہرا معیار، بنگلہ دیش کا ساتھ دینے پر پاکستان کو تنہائی کی دھمکی، بھارتی میڈیا کا دعویٰ
جن میں سے 179.27 کروڑ ٹکہ بنگلہ دیشی حکومت فراہم کرے گی جبکہ باقی زیادہ تر رقم چین کی گرانٹ امداد سے آئے گی۔
حکام کے مطابق یہ منصوبہ اس وقت سامنے آیا جب پروفیسر محمد یونس نے گزشتہ سال مارچ میں چین کے دورے کے دوران صدر شی جن پنگ سے بنگلہ دیش میں ایک جدید اسپتال کے قیام کی درخواست کی، جس پر بیجنگ نے فوری طور پر تعاون کا اعلان کیا۔
منصوبے کے تحت نیلپھاماری صدر اپازلا میں 10 منزلہ جدید اسپتال کی عمارت تعمیر کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: آئندہ انتخابات بنگلہ دیش میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کا معیار قائم کریں گے، محمد یونس
اس کے ساتھ ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کے لیے ہاسٹلز اور رہائشی سہولیات، ڈائریکٹر کی رہائش، معاون انفراسٹرکچر اور جدید ترین طبی آلات بھی فراہم کیے جائیں گے۔
یہ اسپتال عمومی اور خصوصی طبی سہولیات فراہم کرے گا، جن میں گردوں، دل، کینسر اور اعصابی امراض کا علاج شامل ہے۔
اسپتال میں جدید ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ، آئی سی یو، سی سی یو اور ایچ ڈی یو یونٹس، جدید تشخیصی سہولیات اور مکمل طور پر لیس آپریشن تھیٹرز قائم کیے جائیں گے تاکہ پیچیدہ اور طویل المدتی بیماریوں کا علاج ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے آئندہ عام انتخابات قریب، کس سیاسی جماعت کا پلڑا بھاری ہے؟
ایکنیک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر محمد یونس نے کہا کہ یہ منصوبہ محض ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے صحت کے نظام میں بہتری کے لیے ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اسپتال کے قیام سے شمالی علاقوں کے عوام کو اپنے گھروں کے قریب جدید علاج کی سہولت میسر آئے گی۔
انہوں نے صحت کی سہولیات کو مرکزیت سے نکال کر مختلف علاقوں میں پھیلانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ رنگپور اور ڈھاکا کے بڑے اسپتالوں پر دباؤ کم کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں:چین نے بنگلہ دیش سے تعلقات پر امریکی سفیر کے بیانات کو بے بنیاد قرار دے دیا
ان کے مطابق نیلپھاماری کا یہ اسپتال اس مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔
چیف ایڈوائزر نے مزید کہا کہ اسپتال کے فعال ہونے کے بعد نیپال اور بھوٹان جیسے ہمسایہ جنوبی ایشیائی ممالک کے مریض بھی یہاں علاج کے لیے آ سکتے ہیں، جس سے بنگلہ دیش ایک علاقائی طبی مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
اس منصوبے سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہونے کی بھی توقع ہے۔
مزید پڑھیں: ڈھاکا میں ماریا بی آؤٹ لیٹ کا افتتاح، بنگلہ دیش میں داخل ہونے والی پہلی بین الاقوامی خواتین فیشن برانڈ قرار
حکام کے مطابق ریونیو بجٹ کے تحت تقریباً 893 ڈاکٹرز، 1,197 نرسیں اور 1,410 دیگر عملہ بھرتی کیا جائے گا، جس سے مقامی معیشت اور صحت کے شعبے کو تقویت ملے گی۔
نیلپھاماری ضلع کی آبادی تقریباً 21 لاکھ ہے، جو زیادہ تر دیہی اور نیم شہری علاقوں پر مشتمل ہے۔
صحت کے حکام کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے معیار کے تحت اس ضلع کو 4,500 سے 6,000 اسپتال بستروں کی ضرورت ہے، جبکہ موجودہ سہولیات اس ضرورت سے کہیں کم ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت کا بنگلہ دیش سے اپنے سفارتی اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو واپس بلانے کا فیصلہ
فی الحال ضلع میں صحت کی سہولیات کا انحصار 250 بستروں پر مشتمل نیلپھاماری جنرل اسپتال اور اپازلا سطح کے بنیادی مراکز صحت پر ہے، جہاں آئی سی یو، ڈائیلیسس، کینسر، دل کے امراض اور دیگر خصوصی سہولیات ناکافی ہیں۔
اس وجہ سے شدید بیمار مریضوں کو اکثر رنگ پور یا ڈھاکہ بھئجنا پڑتا ہے، جس سے اخراجات، سفر کا وقت اور خطرات بڑھ جاتے ہیں۔














