بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کہا ہے کہ 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات ملک میں آئندہ تمام انتخابات کے لیے ایک معیار قائم کریں گے۔
یہ بیان انہوں نے جمعرات کو ڈھاکہ میں اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں نئے تعینات امریکی سفیر برنٹ کرسٹینسن کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران دیا، جس کی تفصیلات چیف ایڈوائزر کے پریس ونگ نے جمعہ کو جاری کیں۔
یہ بھی پڑھیں:
ملاقات میں متنوع امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں آئندہ انتخابات کی تیاری، عبوری حکومت کی طرف سے حال ہی میں منظور شدہ لیبر قوانین، بنگلہ دیش اور امریکا ٹیرف معاہدے کی تجویز، اور موجودہ روہنگیا پناہ گزین بحران شامل تھے۔
February 12 general elections would set a benchmark for all future polls in Bangladesh, Bangladesh's Yunus tells newly appointed US Ambassador to Bangladesh, Brent Christensen pic.twitter.com/kLOO4xHNzA
— Sidhant Sibal (@sidhant) January 23, 2026
پروفیسر یونس نے سفیر کو عبوری حکومت کی اہم خارجہ پالیسی ترجیحات سے آگاہ کیا، جن میں بنگلہ دیش کی جانب سے ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز (آسیان) میں شمولیت کی کوششیں اور ساؤثھ ایشین ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، اور یورپی یونین بھی بڑی تعداد میں مبصرین بھیجے گا۔
یونس نے امید ظاہر کی کہ دیگر ترقیاتی شراکت دار بھی نگرانی کے لیے ٹیمیں بھیجیں گے۔
مزید پڑھیں:
محمد یونس کا کہنا تھا کہ یہ ایک جشن کے ماحول میں انتخابات ہوں گے اور آئندہ اچھے انتخابات کے معیار کا تعین کریں گے۔
سفیر کرسٹینسن نے کہا کہ وہ فروری کے انتخابات میں جیتنے والے کسی بھی امیدوار کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں۔
انہوں نے عبوری حکومت کے اصلاحی ایجنڈے کو سراہا اور گزشتہ 18 ماہ کے دوران یونس کی قیادت کی تعریف کی، نیز حال ہی میں نافذ ہونے والے لیبر قوانین کا بھی خیرمقدم کیا۔
مزید پڑھیں:
چیف ایڈوائزر نے بنگلہ دیشی برآمدات پر ٹیرف میں کمی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری تجارتی مذاکرات مزید کمی کا سبب بنیں گے۔
امریکی سفیر نے مذاکرات میں پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ زرعی تجارت میں توسیع ڈھاکہ اور واشنگٹن کے مباحثے میں مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔
یونس نے مزید کہا کہ امریکا ایک لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے انسانی ہمدردی کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے جو جنوب مشرقی بنگلہ دیش کے کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔
مزید پڑھیں:
انہوں نے بنگلہ دیش کی جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان تذویراتی حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ڈھاکہ نے آسیان کے ساتھ سیکٹورل ڈائیلاگ پارٹنرشپ کے لیے درخواست دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سارک کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششیں جاری ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ منتخب حکومت اس اقدام کو آگے بڑھائے گی۔
دونوں فریقین نے حال ہی میں 75 ممالک بشمول بنگلہ دیش پر امریکی ویزا پابندیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔














