اے آئی کمپنیاں صحافت کے استعمال کی قیمت ادا کریں، پالیسی تحقیقی ادارے کا مطالبہ

جمعہ 30 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کے ایک بائیں بازو کے تھنک ٹینک نے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی جانے والی خبروں پر واضح لیبلنگ کی جائے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے سسٹمز میں صحافتی مواد کے استعمال کے عوض پبلشرز کو ادائیگی کریں۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی تعصب پر تحقیق: چیٹ جی پی ٹی آمرانہ خیالات اپنا سکتا ہے

انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی ریسرچ (آئی پی پی آر) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی کمپنیاں تیزی سے آن لائن معلومات کی نئی نگہبان (گیٹ کیپرز) بنتی جا رہی ہیں اس لیے اے آئی کے دور میں صحت مند نیوز ماحول کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ اے آئی کے ذریعے فراہم کی جانے والی خبروں اور جوابات پر نیوٹریشن لیبل کی طرز پر لیبل لگایا جائے جس میں واضح کیا جائے کہ معلومات کن ذرائع سے لی گئی ہیں، جیسے کہ تحقیقی جرائد یا پیشہ ورانہ نیوز ادارے۔ اس کے علاوہ آئی پی پی آر نے مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ میں ایک لائسنسنگ نظام متعارف کرایا جائے جس کے تحت پبلشرز اے آئی کمپنیوں کے ساتھ اپنے مواد کے استعمال پر ادائیگی کے لیے مذاکرات کر سکیں۔

آئی پی پی آر کی سینیئر ریسرچ فیلو روا پاول نے کہا کہ اگر اے آئی کمپنیاں صحافت سے منافع کماتی ہیں اور عوامی فہم پر اثر انداز ہوتی ہیں تو انہیں منصفانہ ادائیگی کرنی ہوگی اور ایسے واضح قوانین کی پابندی کرنی چاہیے جو اعتماد، تنوع اور خبروں کے طویل مدتی مستقبل کا تحفظ کریں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کی کمپیٹیشن اینڈ مارکیٹس اتھارٹی اس ضمن میں خاص طور پر گوگل پر اپنے نئے اختیارات کے تحت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ حال ہی میں سی ایم اے نے تجویز دی ہے کہ پبلشرز کو گوگل کو اے آئی اوورویوز کے لیے اپنے مواد کی اسکریپنگ سے روکنے کا اختیار دیا جائے جسے آئی پی پی آر وسیع تر اجتماعی لائسنسنگ معاہدوں کی بنیاد قرار دیتا ہے۔

مزید پڑھیے: کیا ہم خبروں کے حوالے سے مصنوعی ذہانت پر اعتبار کرسکتے ہیں؟  

رائٹرز انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف جرنلزم کے مطابق گوگل کے اے آئی اوورویوز ماہانہ تقریباً 2 ارب صارفین تک پہنچتے ہیں، جبکہ ہر 4 میں سے ایک شخص معلومات حاصل کرنے کے لیے اے آئی ٹولز استعمال کر رہا ہے۔

آئی پی پی آر نے اپنی تحقیق کے دوران چیٹ جی پی ٹی، گوگل اے آئی اوورویوز، گوگل جیمنائی اور پرپلیکسیٹی کو 100 نیوز سے متعلق سوالات پر آزمایا۔

نتائج سے پتا چلا کہ لائسنسنگ معاہدے اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ کن پبلشرز کا حوالہ دیا جاتا ہے جس سے خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ چھوٹے اور مقامی نیوز ادارے نظرانداز ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لائسنسنگ اشتہاری آمدنی میں کمی کے اثرات کم کرنے کا ایک ذریعہ تو ہو سکتی ہے لیکن یہ مکمل حل نہیں۔

مزید پڑھیں: ذہنی مسائل میں مصنوعی ذہانت کا کردار، ماہرین نے خبردار کردیا

تھنک ٹینک نے سفارش کی ہے کہ تحقیقی اور مقامی صحافت کے فروغ کے لیے عوامی فنڈز بھی استعمال کیے جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس: سماعت 6 اپریل تک ملتوی

’دھنیا فریج میں اگتا رہتا ہے؟‘، ندا یاسر کے بیان پر صارفین کی ٹرولنگ

تاجر رہنما عامر اعوان کے قتل میں منصور خان گینگ ملوث، افغان باشندے بھی شامل تھے، طلال چوہدری

بنگلہ دیش: ایک لاکھ 92 ہزار ٹن سے زائد ایندھن، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن

اسرائیل میں فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت کا نیا قانون، عالمی سطح پر شدید ردعمل

ویڈیو

گلگت بلتستان کے گاؤں سے وطن سے محبت اور آزادی کی قدر کا پیغام

پاکستان میں مہنگے فیول نے کیب ڈرائیورز اور مسافروں کو بھی مشکل میں ڈال دیا

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بیجنگ پہنچ گئے، ایران پر بات کریں گے: چین

کالم / تجزیہ

پاکستان کا فیصلہ کیا ہوگا؟

ہم بہت خوش نصیب ہیں، ہم بہت بدنصیب ہیں

ایک حادثہ جس نے میڈیا کی بلوغت کا ثبوت دیا